کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: دو اشخاص کے درمیان باہمی رضامندی سے ایک کاروباری شرکت قائم ہے۔ ان میں سے ایک شریک نے دوسرے شریک کی اجازت اور اطلاع کے بغیر اپنے والد سے کچھ رقم بطورِ قرض حاصل کی اور اسے کاروبار میں لگا دیا۔ دوسرے شریک کو اس قرض اور اس کے کاروبار میں استعمال کا علم نہ تھا۔ بعد ازاں جب کاروبار میں نقصان (تاوان) واقع ہوا تو اس شریک نے بتایا کہ اس نے اپنے والد سے قرض لے کر کاروبار میں لگایا تھا۔ اب دوسرا شریک اس قرض کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے اس کا علم نہ تھا اور نہ میں نے اس کی اجازت دی، لہٰذا میں اس قرض کا ذمہ دار نہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ: آیا یہ قرض شریک کے ذمہ لازم ہوگا یا صرف قرض لینے والے شریک کے ذمہ؟ کیا دوسرے شریک کا انکار شرعاً معتبر ہے؟ نقصان کی صورت میں اس قرض کا کیا حکم ہوگا؟
سائل نے یہ نہیں لکھا کہ کاروباری شراکت اور اس میں ہونے والا نقصان کس نوعیت کا تھا اور اس کی تفصیل کیا تھی تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا بہر کیف اگر کسی شریک نے دوسرے شریک کی اجازت کے بغیر اپنے والد سے قرض لیکر رقم مشترکہ کاروبار میں لگائی تھی تو اس صورت میں قرض کی پوری رقم قرض لینے والے شریک کے ذمہ لازم ہے۔کاروبار میں نقصان ہوجانے کی صورت میں اب یہ قرض لینے والا شریک دوسرے شریک سے اس رقم کا مطالبہ نہیں کر سکتا ہے۔
فی الدر المختار: تصرف أحد الشریکین فی البلد والآخر فی السفر وأراد القسمة فقال ذوالید قد استقرضت الف فالقول له إن کان المال في یدہ ۔ وقال فی الرد: وإن أذن کل منھما لصاحبه بالاستدانة علیه لزمه خاصة ، فکان للمقرض أن یأخذ منه ولیس له أن یرجع علی شریکه علی شریکه وھوالصحیح لأن التوکیل بالإقراض فصار الإذن وعدمه سواء۔قلت ویظھر من ھذا أن فی المسئلة قولین : أحدھما مامر عن المحیط من أن لکل شریکی العنان الاسقراض لأنه تجارة أی مبادلة معنی، والثانی عدم الجواز ولو بصریح الإذن، وھو الصحیح لموافقته لقولھم: إن التوکیل بالاستقراض باطل لأنه توکیل بالتکدی۔ وبیانه أن الاستقراض تبرع ابتداء فکان فی معنی التکدی: أی الشحاذة۔ ویتفرع علی ذلک أنه لواستقرض بالإذن وھلک القرض یھلک علیھما علی القول الأول وعلی القول الثانی یھلک علی المستقرض (إلی قوله) وأما قوله ولیس له أن یرجع علی شریکه فذاک فیما إذا ھلک القرض ، فلا ینافی قبول قوله إن بعض ھذا المال قرض، وأراد أخذ نظیرہ إذ لا رجوع فی ذلک علی الشریک۔(ردالمحتار: ج:4 ص: 330-331، ط: ایچ ایم سعید)
فی الدر المختار: ( و ) لا ( القرض ) إلا بإذن شريكه إذنا صريحا فيه سراج وفيه إذا قال له اعمل برأيك فله كل التجارة إلا القرض والهبة
وفی الرد المحتار: قوله (ولا القرض)أی الإقراض فی ظاھرالروایة، أما الإستقراض فقدم أنه یجوز (إلی قوله)ولوقال: کل منھما للآخر اعمل برأیک فلکل منھما أن یعمل ما یقع به التجارة: کالرھن والإرتھان، والسفر والخلط بماله، والشرکة بمال الغیر لا الھبة والقرض وکان إتلاف للمال أو تملیکا من غیر عوض فإنه لا یجوز مالم یصرح به نصاً۔
في الفتح: وكل ما كان لأحدهما إذا نهاه عنه شريكه لم يكن له فعله. فتح القدير (6/ 185)
"(يشترط أن يكون رأس مال الشركة عينا ولا يكون دينا أي لا يكون المطلوب من ذمم الناس رأس مال للشركة. مثلا ليس لاثنين أن يتخذا دينهما الذي في ذمة آخر رأس مال للشركة فيعقدا عليه الشركة، وإذا كان رأس مال أحدهما عينا والآخر دينا فلا تصح الشركة أيضا)"(الكتاب العاشر، الباب السادس، الفصل الثالث،المادة 1341، ج: 3، ص: 354۔355، ط: دارالجیل)
"يجب على المقترض أن يرد مثل المال الذي اقترضه إن كان المال مثلياً بالاتفاق."(القسم الثالث: العقود أو التصرفات المدنية المالية، الفصل الثاني: القرض، ما يجب رده على المقترض، ط: دار الفكر) "بدائع الصنائع " (13/ 123):
"ولو استقرض مالا لزمهما جميعا ؛ لأنه تملك مال بالعقد ، فكان كالصرف ، فيثبت في حقه وحق شريكه ؛ ولأنه إن كان الاستقراض استعارة في الحال ، فهويملك الاستعارة ، وإن كان تملكا يملكه أيضا ". "تنقيح الفتاوى الحامدية" (2/ 99):
"( سئل ) فيما إذا استقرض أحد شريكي العنان مبلغا معلوما من الدراهم لأجل الشركة ويريد الشريك المستقرض أخذ مثل القرض المزبور فهل له ذلك ؟
( الجواب ) : نعم ولو استقرض أحدهما مالا لزمهما لأن الاستقراض تجارة ومبادلة معنى لأنه يملك المستقرض ويلزمه رد مثله فشابه المصارفة أو الاستعارة وأيهما كان نفذ على صاحبه محيط السرخسي من فصل ما يجوز لأحد شريكي العنان أن يعمل في المال" . "الدر المختار للحصفكي" (5/ 473):
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0