میں عمرہ کے لیے جدہ سے مکہ مکرمہ جا رہا تھا، لیکن داخلے کی پابندی کی وجہ سے مجھے عمرہ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے بعد میں گھر آیا اور عام لباس پہنا۔ براہِ کرم اس بارے میں میری رہنمائی کریں، اور اگر ہو تو قربانی کریں۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل نے اگر حرم مکی میں داخل ہونے سے قبل احرام کی چادریں پہننے کے بعدباقاعدہ عمرے کی نیت سے تلبیہ پڑھ کر عمرے کی نیت نہیں کی تھی،تب تو حکومتی پابندی کی وجہ سے گھر واپس آنے اور عام لباس پہننے کی وجہ سے سائل پر کوئی دم وغیرہ لازم نہیں اور نہ ہی عمرے کی قضاء لازم ہوگی،البتہ اگر سائل نے احرام کی چادریں پہننے کے بعد باقاعدہ عمرے کی نیت کی ہو تو ایسی صور ت میں سائل شرعا محرم بن چکا تھا جس کے بعد سائل کے ذمہ عمرے کے افعال کی ادائیگی کرنے کے بعد حلق یا قصر کرکے ہی احرام سے نکلنا ممکن تھا لیکن اگر حکومتی پابندی کی وجہ سے سائل کے لئے عمرہ کی ادائیگی کرنا ممکن نہ تھی تو ایسی صورت میں سائل "محصر " کے حکم میں ہوگا،اور "محصر"کے لئے شرعا حکم یہ ہے کہ وہ احرام کی حالت میں اپنے کسی وکیل کے ذریعے احرام سے نکلنے کی نیت سے ایک جانور حرم میں ذبح کرے اور پھر حلق یا قصر کرکے احرام سے نکل جائے ،اور حکومتی پابندی وغیرہ عمرے کی ادائیگی میں حائل رکاوٹ کے ختم ہونے کے بعد اس عمرے کی قضاء بھی کرے،چنانچہ سائل کے لئے بھی مذکور طریقہ کار کے مطابق عمل کرکے احرام سے نکلنے کا اہتمام کرنا چاہئے تھا ،لیکن اگر سائل نے ایسا نہ کیا ہو،بلکہ احرام سے نکلنے کی نیت سے سلے ہوئے کپڑے پہن لئے ہوں تو ایسی صورت میں اب سائل کے ذمہ احرام سے نکلنے کے لئے مذکورہ بالا طریقے پر عمل کرنا اور احرام کی حالت میں سلا ہوا لباس پہننے پر ایک دم دینا لازم ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (وحرم تأخير الإحرام عنها) كلها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم (ولو لحاجة) غير الحج أما لو قصد موضعا من الحل كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام فإذا حل به التحق بأهله فله دخول مكة بلا إحرام وهو الحيلة لمريد ذلك الخ
وفیہ ایضاً: (و) الميقات (لمن بمكة) يعني من بداخل الحرم (للحج الحرم وللعمرة الحل) ليتحقق نوع سفر والتنعيم أفضل الخ
وفی رد المحتار تحت: ( قولہ یعنی ) والمراد بالمكي من كان داخل الحرم سواء كان بمكة أو لا، وسواء كان من أهلها أو لا. اھ ( فصل فی المواقیت ج 2 ص 477 ط: سعید)۔
کما فی تخفۃ الفقہاء:
ومنها حكم الإحصار وهو أن يبعث الهدي إلى الحرم أو يأمر رجلا ليشتري هديا ثمة ويواعده بأن يذبحه عنه ثمة في يوم معين فإذا ذبحه عنه يحل له كل شيء ولا يحتاج إلى الحلق في قول أبي حنيفة ومحمد وإن فعل فحسن،وقال أبو يوسف ينبغي أن يحلق وإن لم يفعل فلا شيء عليه وروي عنه أنه واجب لا يسع تركه وله أن يرجع إلى أهله إذا بعث الهدي سواء ذبح عنه أو لا لأن إذا لم يتمكن من المشي إلى الحج فلا فائدة في المقام ومنها أن يتحلل بشاة وإن كان اسم الهدي يقع على الشاة والإبل والبقر لما روى جابر أن النبي عليه السلام أمر الناس عام الحديبية أن يتحللوا بشاة ويذبحوا البقرة عن سبعة ومنها أن هدي الإحصار لا يجوز ذبحه إلا في الحرم عندنا۔(ج:1/ص:416/ط:دارالکتب العلمیۃ،بیروت)
وفی الھندیۃ:
"(وأما حكم الإحصار) فهو أن يبعث بالهدي أو بثمنه ليشتري به هديا ويذبح عنه وما لم يذبح؛ لا يحل وهو قول عامة العلماء سواء شرط عند الإحرام الإهلال بغير ذبح عند الإحصار أو لم يشترط، ويجب أن يواعد يوما معلوما يذبح عنه فيحل بعد الذبح ولا يحل قبله حتى لو فعل شيئا من محظورات الإحرام قبل ذبح الهدي يجب عليه ما يجب على المحرم إذا لم يكن محصرا، وأما الحلق فليس بشرط للتحلل في قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - وإن حلق فحسن، كذا في البدائع."(ج:1،ص:255،ط:دارالفکر،بیروت)
و فی المبسوط للسرخسی:
"وكذلك لو لبس قميصا أو سراويل أو قلنسوة يوما إلى الليل فعليه دم، وإن كان فيما دون ذلك فعليه صدقة كما بينا، وإنما أراد بهذا إذا لبسه على الوجه المعتاد أما إذا ائتزر بالسراويل أو ارتدى بالقميص أو اتشح به فلا شيء عليه؛ لأنه يحتاج إلى تكلف حفظه على نفسه عند اشتغاله بالعمل فلا يكون لابسا للمخيط."
(كتاب المناسك،باب ما يلبسه المحرم من الثياب،ج: 4،ص: 126،ط: دار المعرفة)
وفی رد المحتار:
واعلم أن المحرم إذا نوى رفض الإحرام فجعل يصنع ما يصنعه الحلال من لبس الثياب والتطيب والحلق والجماع وقتل الصيد فإنه لا يخرج بذلك من الإحرام، وعليه أن يعود كما كان محرما،ويجب دم واحد لجميع ما ارتكب ولو كل المحظورات، وإنما يتعدد الجزاء بتعدد الجنايات إذا لم ينو الرفض، ثم نية الرفض إنما تعتبر ممن زعم أنه خرج منه بهذا القصد لجهله مسألة عدم الخروج، وأما من علم أنه لا يخرج منه بهذا القصد فإنها لا تعتبر منه(ردّ المحتار: (کتاب الحج، باب الجنايات في الحج، 553/2، ط: سعید)