کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین اس مسئلہ ذیل کے متعلق کہ میں زرگر کو ایک تولہ سونا دے چکی ہوں ،وہ ان کے پاس ہے اس شرط پر کہ وہ مجھے مہینے میں چار یا پانچ ہزار روپے دے گا اور ایک یا کئی مہینوں کا ایک ساتھ ہی ایڈوانس بھی دے سکتا ہے ۔ زرگر کا کہنا ہے کہ جب جب سونے کی قیمت بڑھے گی تو آپ کا ماہانہ رقم بھی بڑھے گا اور میں مہینوں کی مخصوص رقم بھی نہیں دے سکتا کہ ہمیشہ وہیں رقم دیا کروں لیکن کبھی کم کبھی زیادہ کیونکہ اگر میں مخصوص رقم دوں گا تو اس سے پھر سود بنے گا جو کہ ناجائز ہے، یہ سوات کا زرگر ہے ۔ایک اور زرگر ہمارا کراچی میں ہے، جن کا کہنا ہے کہ میں تولے میں مخصوص رتی یا اس کی قیمت دوں گا ،اب میں نے یہ کام نومبر میں کیا تھا تو نومبر اور دسمبر کے 9 ہزار روپے اور جنوری فروری کے پیسے فروری میں 10 ہزار روپے ابھی مارچ ہے اور زرگر کا کہنا ہے کہ اگر آپ اپنا سونا واپس لینا چاہو گی تو میں کچھ مہینے بعد پھرآپ کو دوں گا اس سے پہلے نہیں دوں گا تو اب کہنا یہ ہے کہ یہ معاملہ سود ہے یا نہیں اگر سود ہے تو ان تمام مہینوں کے کھائے ہوئے پیسوں کا کیا حکم ہے ؟
صورت مسؤلہ میں سائلہ نے سنیار کو جو سونا دیا ہے اگر معاملہ ختم کرتے وقت سنیار کو اسی مقدار (ایک تولہ) سونا لوٹانے کا ہر حال میں پابند ہو تو اس سونے کی حیثیت اس کے پاس قرض کی ہے اور فریقین کے درمیان ہر ماہ سونے کی قیمت کے اتار چڑھاؤ کو ملحوظ رکھ کر کچھ نہ کچھ منافع اور رقم دینے کا جو معاہدہ ہوا ہے وہ شرعا قرض پر نفع لینے کی صورت بنتی ہے، لہٰذا سائلہ پر لازم ہے کہ وہ مذکور زرگر سے اپنا یہ سابقہ معاہدہ ختم کر کے اب تک لی ہوئی رقم اسے واپس کر دیں، تاہم سوال کی نوعیت اگر کچھ اور ہو تو سائلہ اور سنیار کے درمیان جو معاملہ ہوا ہے ،اس کی تمام تر تفصیل بیان کر کے دوبارہ سوال بھیج دے، تو انشاءاللہ اس میں غوروفکر کر کے حکم شرعی سے بھی اگاہ کر دیا جائے گا۔
قال الله تعالى: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ } [البقرة: 278]
كما فى حاشية ابن عابدين (رد المحتار): والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه اھ (باب البيع الفاسد مطلب فيمن ورث مالا حراماج:5،ص:99 مط:دار الفكر - بيروت)
وفیہ ایضآً: مطلب كل قرض جر نفعا حرام قوله ( كل قرض جر نفعا حرام ) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر اھ ( باب المرابحة والتولية فصل فی القرض ، ج:5،ص:166،مط:دار الفكر - بيروت)
وفی اعلاء السنن:وکل قرض شرط فیه الزیادۃ فهو حرام بلا خلاف، قال ابن المنذر: أجمعوا علي أن المسلف إذا شرط علي المستسلف زیادۃً أو هدیة، فأسلف علي ذٰلك أن أخذ الزیادۃ علي ذٰلك ربا، قال رسول اللّٰہ صلي اللّٰہ علیه وسلم: کل قرض جر منفعة فهو ربا اھ(کتاب الحوالة، باب کل قرض جر منفعة فهو ربا، ج:14ص:513 ط: إدارۃ القرآن کراچی)
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0