شرکت و مضاربت

سونار کو سونا شرکت کے لیے دے کر اس پرمنافع لینا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
94916
| تاریخ :
2026-05-04
معاملات / مالی معاوضات / شرکت و مضاربت

سونار کو سونا شرکت کے لیے دے کر اس پرمنافع لینا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین اس مسئلہ ذیل کے متعلق کہ میں زرگر کو ایک تولہ سونا دے چکی ہوں ،وہ ان کے پاس ہے اس شرط پر کہ وہ مجھے مہینے میں چار یا پانچ ہزار روپے دے گا اور ایک یا کئی مہینوں کا ایک ساتھ ہی ایڈوانس بھی دے سکتا ہے ۔ زرگر کا کہنا ہے کہ جب سونے کی قیمت بڑھے گی تو آپ کا ماہانہ رقم بھی بڑھے گا اور میں مہینوں کی مخصوص رقم بھی نہیں دے سکتا کہ ہمیشہ وہیں رقم دیا کروں لیکن کبھی کم کبھی زیادہ کیونکہ اگر میں مخصوص رقم دوں گا تو اس سے پھر سود بنے گا جو کہ ناجائز ہے، یہ سوات کا زرگر ہے۔ایک اور زرگر ہمارا کراچی میں ہے، جن کا کہنا ہے کہ میں تولے میں مخصوص رتی یا اس کی قیمت دوں گا ،اب میں نے یہ کام نومبر میں کیا تھا تو نومبر اور دسمبر کے 9 ہزار روپے اور جنوری فروری کے پیسے فروری میں 10 ہزار روپے ابھی مارچ ہے اور زرگر کا کہنا ہے کہ اگر آپ اپنا سونا واپس لینا چاہو گی تو میں کچھ مہینے بعد پھرآپ کو دوں گا اس سے پہلے نہیں دوں گا تو اب کہنا یہ ہے کہ یہ معاملہ سود ہے یا نہیں اگر سود ہے تو ان تمام مہینوں کے کھائے ہوئے پیسوں کا کیا حکم ہے ؟
تنقیحات:
1۔ سائلہ نے جو سونا دیا تھا سنار کو تو ان کا باہم کیا معاہدہ ہوا تھا ؟
2۔ جب سنار نے وہ زیور کاروبار میں لگایا نہیں ، تو اس نے منافع کس بنیاد پر تقسیم کیا ؟
گزشتہ مہینے میں نے سنار کا جو مسئلہ بھیجا تھا نجىہ كے نام سے، اس مسئلہ میں یہ بات رہ گئی تھی کہ ہماری بات سنار سے اس طرح ہوئی تھی کہ یہ سونا جو ہم نے دیا ہے وہ آپ لوگ اپنے استعمال میں لاؤ گے ۔پھر جو منافع آئے گا ،تو تم مجھے ان میں سے پیسے دو گے یعنی تم لوگ اس پر تجارت کرو گے پھر منافع اگر زیادہ آئے گا تو زیادہ دو گے اور اگر کم آئے گا تو کم دو گے، لیکن فی مہینہ یعنی جتنی مرتبہ بھی یہ کام آئے گا تجارت اس پر ہوگی لیکن سنار مجھے فی مہینہ صرف مجھے دے گا، اگرچہ وہ مہینہ میں کئی دفعہ استعمال میں آئے ،پھر یہ بات الگ ہے کہ سنار نے پھر کہا تھا کہ یہ سونا میرے پاس ابھی تک پڑا ہوا ہے، میں نے اس کو ابھی تک بیچا نہیں ہے اور وہ سونا ابھی تک اس کے پاس تھا یا نہیں وہ سچ کہہ رہا ہے یا جھوٹ اس کا علم بس اللہ کو ہے ،لیکن ہماری بات تجارت کی اسی طرح ہوئی ہے کہ فی مہینہ مجھے منافع کے کمی زیادتی کو مدنظر رکھ کر دو گے، کیونکہ جو سونا میں نے دیا ہے وہ گلے کا ہار ہے لاکٹ ہے تو وہ اس کو توڑنا نہیں چاہتے، اب ہمارا تو اس کے ساتھ کوئی کام تو نہیں کہ وہ سونا کسی چیز میں لگا کر بیچ رہا ہے یا اسی ہار کو اسی طرح آگے بیچ رہا ہے۔
اور اگر یہ طریقہ کار سود ہی ہے اور معاملہ ختم کرنا ہی ضروری ہے تو کیا یہ جائز ہے کہ وہ سونا سنار اتنے ہی دن اپنے استعمال میں لائیں، جتنے دن میں نے پیسے لئے ہیں یعنی جتنے پیسے سنار مجھے دے چکا ہے ،اتنے مہینہ وہ اپنے استعمال میں لائیں اور اتنے ہی پیسے وہ اپنے لے لیں اور پھر واپس وہ سونا میرے حوالے کرے، کیونکہ میری اتنی گنجائش نہیں کہ وہ سارے پیسے سنار کو حوالہ کر لوں اتنے پیسے کہاں سے ادا کروں گی؟
براه کرم سنار کے کھاتے والے مسئلہ اور اس مسئلہ کو ایک ساتھ اسٹیپل کرکے سامنے رکھ کر مسئلہ کے حکم کو قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کریں۔
نوٹ:سنا ر سے فون پر بات کرنے پر معلوم ہوا وہ جس سے زیور تجارت کے لیے لیتے ہیں ، تو منافع فیصدی اعتبار سے تقسیم کرتے ہیں ، اور تجارت اس طرح ہوتی ہے کہ یا تو وہ زیور کوتوڑ کر دیگر زیورات بنانےمیں لگادیتے ہیں یا اسے کیش میں بدل کر اپنے کاروبا ر میں لگاکر آگے کام کرتے ہیں ، اور جو نفع ہوتا ہے ،اس زیور کی مد میں ہوتا ہے ، اس میں اپنا حصہ رکھ کر زیور دینے والے کو اس کا حساب الگ سے دے دیتے ہیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ نے سوال میں جو وضاحت کی ہے ، اس سےبھی فریقین کے درمیان معاملہ کی پوری نوعیت واضح نہیں ہوپارہی اور فریق ثانی سے رابطہ کرنے کے باوجود ان کی جانب سے کوئی تفصیل سامنے نہ آسکی اس لیے اس معاملہ میں حتمی رائے تو نہیں دی جاسکتی ، البتہ پہلے سے چلتے ہوئے سونے کے کاروبار میں شرکت کی درستگی اور جواز کے لیے فقہاء کرام نے چند شرائط بیان کی ہیں ، جو مندرجہ ذیل ہیں :
1۔ عقد شرکت کرتے وقت کام کر نے والے کو اپنے کل کاروبار کا حجم اور مالیت یقینی طور پر معلوم ہو۔
2۔ شرکت کے لیے دیے گئے سونے کی موجودہ قیمت لگائی جائے، پھر اس قیمت کی بنیاد پر شرکت کا معاملہ کیا جائے،تاکہ بعد میں نفع یا نقصان ہونے کی صورت میں ہر شریک کا حصہ واضح طور پر معلوم ہو سکے۔
3۔ عقد کرتے وقت سونے کی مالیت کو کاروبار کا اس طرح حصہ بنایا جائے کہ سرمایہ کاری کرنے والے کا حصہ متعین کردیا جائے کہ کل سرمایہ کا پانچ فیصد ہے یا دس فیصد۔
4۔نفع کی تقسیم فیصدی تناسب سے طے کرنا ضروری ہے۔ البتہ جو شریک عملی طورپر کاروبار میں کام نہیں کر رہا، اس کےلئے اس کے سرمائے کے تناسب سے زائد نفع کی شرح طے نہ کی جائے ، تاہم جو شریک کاروبار سنبھال رہا ہے اس کے لئے نفع کی شرح اس کے سرمائے کے تناسب سے زیادہ بھی طے کی جا سکتی ہے۔
5۔ نقصان کی صورت میں اگر اس کی تلافی منافع سے ممکن نہ ہو ، بلکہ سرمایہ تک پہنچ جائے تو ہر شریک اپنے سرمائے کے تناسب سے نقصان برداشت کرے گا۔
لہذا سائلہ اور مذکور سنار کے درمیان ہونے والا معاملہ اگر درج بالا شرائط اور تفصیل کے مطابق ہو ، تو یہ معاملہ شرعا بھی درست ہے اور سائلہ کے لیے حاصل کردہ نفع کا استعمال بھی جائز ہوگا، ورنہ ان شرائط سے عدم موافقت کی صورت میں یہ معاملہ شرعا فاسد ہوگا ، جس کا فریقین پر ختم کرے شرعی ضابطے اور طریقہ کار کے مطابق ازسرنو عقد کرنا ضروری ہوگا ، اور اس دوران ہونے والےمنافع میں فریقین میں سے ہر ایک اپنے سرمایہ کے تناسب سے حقدار ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوی الھندیۃ: الشركة إذا كانت بالمال لا تجوز عنانا كانت أو مفاوضة إلا إذا كان رأس مالهما من الأثمان التي لا تتعين في عقود المبادلات نحو الدراهم والدنانير، فأما ما يتعين في عقود المبادلات نحو العروض والحيوان فلا تصح الشركة بهما سواء كان ذلك رأس مالهما أو رأس مال أحدهما، كذا في المحيط(الی قولہ) التبر من الذهب والفضة بمنزلة العروض في ظاهر الرواية لا يصلح رأس مال الشركة، كذا في فتاوى قاضي خان، والصحيح إن كانوا يتعاملون بها يجوز وإلا فلا، كذا في التهذيب. والمصوغ منهما بمنزلة العرض في الروايات كلها، كذا في فتاوى قاضي خان اھ (الفصل الثالث فيما يصح أن يكون رأس المال وما لا يصح ج:2 ص:306 ناشر: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)
وفی المعاییر الشرعیۃ: الاصل ان یکون راس مال الشرکۃ موجودات نقدیۃ یمکن بھا تحدید مقدار راس المال لتقریر نتیجۃ المشارکۃ من ربح او خسارۃ ومع ذالک یجوز باتفاق الشرکاء الاسھام بموجودات غیر نقدیۃ (عروض) بعد تقویمھا بالنقد لمعرفۃ مقدار حصۃ الشریک اھ ( عنوان راس مال الشرکۃ ج:1 ص:328 ناشر: المکتبۃ الحقانیۃ)
وفی الفتاوی الھندیۃ: فإن أذن كل واحد منهما لصاحبه في بيعه (العبد المشترک بینھما) فباع أحدهما من رجل على أن له نصفه فهو بائع نصيب شريكه بنصف الثمن، وإن باعه إلا نصفه فجميع الثمن ونصف العبد بينهما نصفين عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى –(الی قولہ) اشترى بقرة بعشرة دنانير فقبضها ثم قال لآخر: قد أشركتك فيها بدينارين فقبل كان له خمس البقرة، كذا في محيط السرخسي اھ (الفصل الثاني في الألفاظ التي تصح الشركة بها والتي لا تصح ج:2 ص: 304-305 ناشر: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)
وفیھا ایضا: وفي شرط الربح تعتبر فيه قيمة رأس مال كل واحد منهما وقت عقد الشركة، وفي وقوع الملك للمشتري تعتبر فيه قيمة رأس مالهما وقت الشراء، وفي ظهور الربح في نصيبهما أو في نصيب أحدهما تعتبر وقت القسمة؛ لأنه ما لم يظهر رأس المال لا يظهر الربح في القنية اھ(الفصل الثالث فيما يصح أن يكون رأس المال وما لا يصح ج:2 ص:307 ناشر: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)
وفی رد المحتار : تحت (قوله: والربح إلخ) حاصله أن الشركة الفاسدة إما بدون مال أو به من الجانبين أو من أحدهما، فحكم الأولى أن الربح فيها للعامل كما علمت، والثانية بقدر المال، ولم يذكر أن لأحدهم أجرا؛ لأنه لا أجر للشريك في العمل بالمشترك كما ذكروه في قفيز الطحان والثالثة لرب المال وللآخر أجر مثله اھ ( فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ ج:4 ص:326 ناشر: حلبی)
وفی الفتاوی الھندیۃ: (الفصل الثاني في شرط الربح والوضيعة وهلاك المال) لو كان المال منهما في شركة العنان والعمل على أحدهما إن شرطا الربح على قدر رءوس أموالهما جاز ويكون ربحه له ووضيعته عليه وإن شرطا الربح للعامل أكثر من رأس ماله لم يصح الشرط ويكون مال الدافع عند العامل بضاعة ولكل واحد منهما ربح ماله، كذا في السراجية. ولو شرطا العمل عليهما جميعا صحت الشركة، وإن قل رأس مال أحدهما وكثر رأس مال الآخر واشترطا الربح بينهما على السواء أو على التفاضل فإن الربح بينهما على الشرط، والوضيعة أبدا على قدر رءوس أموالهما، كذا في السراج الوهاج. وإن عمل أحدهما ولم يعمل الآخر بعذر أو بغير عذر صار كعملهما معا، كذا في المضمرات. ولو شرطا كل الربح لأحدهما فإنه لا يجوز، هكذا في النهر الفائق اھ (الفصل الثاني في شرط الربح والوضيعة وهلاك المال ج:2 ص:320 ناشر: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94916کی تصدیق کریں
0     152
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مشترکہ رقم سے ،کسی ایک شریک کا اپنے مہمان کو کھانا کھلانا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروبار میں شرکت کا صحیح طریقہ

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 7
  • مکان میں کسی کو شریک کرنے کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • شریک کے لیے تنخواہ مقررکرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 3
  • مضاربت کے مختلف مسائل

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • شریکین میں منافع کی تقسیم کا طریقہ

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • معاضہ طے کئے بغیر کسی کے کاروبار میں محنت کرنے والے کا حصہ کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • میزان بینک ٹرم سرٹیفیکیٹ کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • میزان ماہانہ مضاربہ منافع کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں انویسٹمنٹ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروباری شرکت میں نقصان سے متعلق حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • میزان بینک میں انویسٹمنٹ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروباری شرکت کے اصول

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں انویسمنٹ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • تکافل کمپنیوں کی پالیسی لینے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • اسمارٹ نامی کمپنی میں انویسمنٹ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • تکافل لائف انشورنس کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   شرکت و مضاربت 0
  • وراثتی کاروبار سے کسی ایک وارث کی شرکت ختم کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • بلڈرز کے ساتھ انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
Related Topics متعلقه موضوعات