السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضرت کیا حال ہے حضرت یہ میرا ایک مسئلہ ہے، اس بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔
ایک آن لائن ایپ/کمپنی ہے جس میں کام کرنے کے لیے کم از کم 500 ڈالر انویسٹ کرنا لازمی ہے، اس سے کم رقم نہیں لگائی جا سکتی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس رقم کو گولڈ (سونے) کی ٹریڈنگ/انویسٹمنٹ میں استعمال کرتی ہے، اور پوری دنیا سے لوگ اس میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔
کمپنی کے قواعد کے مطابق:
سرمایہ کاری کے بعد روزانہ کی بنیاد پر 1٪ منافع دیا جاتا ہے۔
اگر 500 ڈالر سے زیادہ مثلاً 1000 یا 1500 ڈالر بھی لگائیں تو بھی منافع صرف 1٪ روزانہ ہی ملتا ہے۔
جب بھی رقم وِڈرا (Withdraw) کریں، چاہے روزانہ، ہفتہ وار، ماہانہ یا سالانہ، کمپنی کل رقم یا منافع میں سے 20٪ بطور چارجز/فیس کاٹ لیتی ہے۔
کمپنی کا مالک یا نمائندہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے اس کام میں کبھی نقصان نہیں ہوتا، بلکہ ہمیشہ منافع ہی ہوتا ہے، اور اس کے پاس ایسی “ٹرک” یا طریقہ ہے جس سے وہ ہمیشہ فائدہ حاصل کرتا ہے۔
سرمایہ کار کو روزانہ ایک مقررہ شرح (1٪) کے مطابق منافع دیا جاتا ہے۔
محترم مفتی صاحب!
اس صورت میں درج ذیل امور کے بارے میں رہنمائی فرمائیں:
کیا اس طرح کی سرمایہ کاری شرعاً جائز ہے؟
کیا روزانہ مقررہ 1٪ منافع لینا سود کے زمرے میں آتا ہے؟
جبکہ کاروبار میں نفع و نقصان دونوں کا امکان ہوتا ہے، لیکن یہاں نقصان نہ ہونے اور مقررہ منافع کی ضمانت دی جا رہی ہے، تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
اس ایپ یا کمپنی میں سرمایہ لگانا اور اس سے حاصل ہونے والا منافع حلال ہے یا ناجائز؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً
والسلام
سائل نے سوال میں مذکور ایپ کے ذریعے کاروبار کے طریقۂ کار کی جو تفصیل ذکر کی ہے، اس میں کاروبار سے حاصل ہونے والے حقیقی منافع کی تقسیم کے لیے کوئی فیصدی تناسب طے کرنے کے بجائے جمع کردہ سرمایہ کے تناسب سے روزانہ کی بنیاد پر منافع کی تقسیم، نقصان نہ ہونے کی یقین دہانی کروا کر جمع کردہ سرمایہ کی ضمانت، اور کاروبار سے نکلتے وقت جمع کردہ سرمایہ میں سے بیس فیصد تک کٹوتی جیسی غیر شرعی شرائط پائی جاتی ہیں، نیز مذکورہ نوعیت کے کاروبار میں دھوکہ دہی اور فراڈ بھی رائج ہے، لہٰذا مذکورہ کمپنی میں سرمایہ کاری کرنا اور اس سے مقررہ منافع حاصل کرنا شرعاً ناجائز ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الاختیار لتعلیل المختار: ولا تصح إلا أن يكون الربح بينهما مشاعا، فإن شرط لأحدهما دراهم مسماة فسدت، والربح لرب المال، وللمضارب أجر مثله، واشتراط الوضيعة على المضارب باطل. (کتاب المضاربة، ج:3، ص:20، ط: دار الكتب العلمية)
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0