یوں کہنا کہ اے قرآن مجید ! مجھے شفاء دے اور میری مصیبتوں کو دور فرما، کیا اس طرح کہنا جائز ہے؟
واضح ہو کہ جب بھی دعا مانگنی ہو، براہِ راست اللہ رب العزت سے مانگنی چاہیے، اللہ رب العزت کے علاوہ براہِ راست کسی نبی، کسی ولی وغیرہ سے دعا مانگنا شرعاًدرست نہیں، یہی بات قرآن مجید اور احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتی ہے ، لہذا سوال میں ذکر کردہ طریقہ کے مطابق براہ راست قرآن مجید سے دعا مانگنے سے اجتناب لازم ہے، البتہ قرآن مجید کی آیاتِ شفاء پڑھ کر پانی اور اپنے اوپر دم کرنا اور دم کیا ہوا پانی پینا ان شاء اللہ تعالیٰ مفید ہوگا، آیات شفاء درج ذیل ہیں:
1-"وَیَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ." (سورہ توبہ: 14)
2-"قَدْ جَآءَ تْکُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ." (سورہ یونس: 57)
3-"یَخْرُجُ مِنْ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهُ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ." (سورہ نحل: 69)
4-"وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَاهُوَ شِفَآءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ." (سورہ اسراء: 82)
5-"وَاِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ." (سورہ شعراء: 80)
6-"قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَآءٌ." (سورہ فصلت: 44)
(اسوۂ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم" تالیف ڈاکٹر محمد عبدالحی " صاحب رحمۃ اللہ علیہ،ص:206،مکتبہ عمر فاروق کراچی)
ففي شرح العقيدة الطحاوية - ابن جبرين: «مما درسناه في مسائل الاعتقاد مسألة الدعاء، وأن ربنا سبحانه أمر أن ندعوه ووعدنا أن يستجيب لنا، قال تعالى: {ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم} [غافر:60] ، وقال تعالى: {أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ} [البقرة:186] ، وقال تعالى: {وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا} [الأعراف:56] ، {ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً} [الأعراف:55] والآيات في أمر الله عباده بأن يدعوه كثيرة.
وقد عرفنا أن الدعاء هو النداء، وأنا إذا قلنا: اللهم اغفر لنا! اللهم أعطنا سؤلنا! فذلك يستدعي نداءً منا لربنا، والمعنى: يا الله! يا ربنا! وهكذا الأدعية التي في القرآن مثل قوله: {رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا} [البقرة:286] التقدير: يا ربنا! لا تؤاخذنا.» (79/ 2 بترقيم الشاملة آليا)
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 6امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1