میں موبائل شاپ چلاتا ہوں۔ کمپنی (Tecno/Infinix) خود قسطوں پر موبائل دیتی ہے۔ کمپنی زیادہ قیمت لیتی ہے اور لیٹ ہونے پر اضافی فیصد/چارج بھی لیتی ہے۔ میں صرف بطور دکاندار موبائل دیتا ہوں اور کمپنی فنانسنگ کرتی ہے۔ کیا اس میں میرا تعاون سود میں شمار ہوگا؟”
واضح ہو كہ قسطوں پر خرید و فروخت کے وقت مندرجہ ذیل شرائط کی رعایت رکھنا ضروری ہے:
(1) مجلس عقد میں یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا۔
(2) ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے ۔
(3) یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل کتنی قسطیں ہو نگی ۔
(4) کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ مشروط نہ ہو ۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر مذکور کمپنی قسطوں کے معاملا ت میں ان شرائط کا لحاظ نہیں رکھتی ، اور سائل کمپنی کے لیے وکیل بن کر کمپنی کی غیر شرعی شرائط پر قسطوں کا کسٹمر سے معاملہ کرتا ہو، تو ایک غیر شرعی معاملہ میں سائل کا واسطہ بننا درست نہیں ، جس سے اسے احتراز لازم ہے۔
کما في سنن الترمذي تحت حديث أبي هريرة رضي الله عنه: نهى رسول الله ﷺ عن بيعتين في بيعة: وقد فسر بعض أهل العلم، قالوا: بيعتين في بيعة، أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما، فلا بأس إذا كانت العقدة على واحد منهما (كتاب البيوع، باب ما جاء في النهي عن بيعتين في بيعة، ج:13 ص:84 ط: دار الرسالة العالمية)
وفی المبسوط: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي ﷺ عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اهـ (كتاب البيوع، باب البيوع الفاسدة، ج:13 ص:8 ط: دار المعرفة بيروت)
وفي الشامية: في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي اهـ (كتاب الحدود، باب التعزير، ج:4 ص:6 ط: سعيد)
وفي بحوث في قضايا فقهية معاصرة: أما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثون، فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد، بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم، وبثمن متفق عيه عند العقد، فأما إذا قال البائع: أبيعك نقدا بكذا ونسيئة بكذا، وافتراقا على ذلك، دون أن يتفقا على تحديد واحد من السعرين، فإن مثل هذا البيع لا يجوز، ولكن إذا عين العاقدان أحد الشقين في مجلس العقد، فالبيع جائز اھ (أحكام البيع بالتقسيط، ج:1 ص:12 ط: دار القلم- دمشق)
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1