سود

کمپنی کی طرف سے قسطوں پر موبائل بیچنے میں گناہ کا حکم

فتوی نمبر :
95573
| تاریخ :
2026-05-21
معاملات / مالی معاوضات / سود

کمپنی کی طرف سے قسطوں پر موبائل بیچنے میں گناہ کا حکم

میں موبائل شاپ چلاتا ہوں۔ کمپنی (Tecno/Infinix) خود قسطوں پر موبائل دیتی ہے۔ کمپنی زیادہ قیمت لیتی ہے اور لیٹ ہونے پر اضافی فیصد/چارج بھی لیتی ہے۔ میں صرف بطور دکاندار موبائل دیتا ہوں اور کمپنی فنانسنگ کرتی ہے۔ کیا اس میں میرا تعاون سود میں شمار ہوگا؟”

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو كہ قسطوں پر خرید و فروخت کے وقت مندرجہ ذیل شرائط کی رعایت رکھنا ضروری ہے:
(1) مجلس عقد میں یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا۔
(2) ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے ۔
(3) یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل کتنی قسطیں ہو نگی ۔
(4) کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ مشروط نہ ہو ۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر مذکور کمپنی قسطوں کے معاملا ت میں ان شرائط کا لحاظ نہیں رکھتی ، اور سائل کمپنی کے لیے وکیل بن کر کمپنی کی غیر شرعی شرائط پر قسطوں کا کسٹمر سے معاملہ کرتا ہو، تو ایک غیر شرعی معاملہ میں سائل کا واسطہ بننا درست نہیں ، جس سے اسے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في سنن الترمذي تحت حديث أبي هريرة رضي الله عنه: نهى رسول الله ﷺ عن بيعتين في بيعة: وقد فسر بعض أهل العلم، قالوا: بيعتين في بيعة، أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما، فلا بأس إذا كانت العقدة على واحد منهما (كتاب البيوع، باب ما جاء في النهي عن بيعتين في بيعة، ج:13 ص:84 ط: دار الرسالة العالمية)
وفی المبسوط: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي ﷺ عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد اهـ (كتاب البيوع، باب البيوع الفاسدة، ج:13 ص:8 ط: دار المعرفة بيروت)
وفي الشامية: في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي اهـ (كتاب الحدود، باب التعزير، ج:4 ص:6 ط: سعيد)
وفي بحوث في قضايا فقهية معاصرة: أما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثون، فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد، بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم، وبثمن متفق عيه عند العقد، فأما إذا قال البائع: أبيعك نقدا بكذا ونسيئة بكذا، وافتراقا على ذلك، دون أن يتفقا على تحديد واحد من السعرين، فإن مثل هذا البيع لا يجوز، ولكن إذا عين العاقدان أحد الشقين في مجلس العقد، فالبيع جائز اھ (أحكام البيع بالتقسيط، ج:1 ص:12 ط: دار القلم- دمشق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کامران صادق عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95573کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موبائل فون میں ایڈوانس لون بیلنس Mobile Advance Loan Balance پر سود کا مسئلہ

    یونیکوڈ   اسکین   سود 4
  • جی پی فنڈ (GP Fund) پرملنے والی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • اکاونٹ کی استعمال کی شرط لگانے سے ملنے والی فری سہولت کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 0
  • کشف فاؤنڈیشن کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   سود 1
  • ہاؤس بلڈنگ فائنانس والوں سے قرضہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   سود 1
  • حرام مال کا حکم - کیا غریب کیلئے لینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 3
  • ایزی کیش کے نام سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 4
  • کیا سودی رقم میں مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 1
  • سودی بینک میں pls اکاونٹ کھلوانا

    یونیکوڈ   سود 0
  • بینک سے سود کی رقم کس مصرف میں خرچ کرسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • اگر ادارے میں سود سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اسمیں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سودی اداروں میں رقم رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں”ربوا“ کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • سود پر قرض لینے والے شخص کی اولاد کے لئے حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کریڈٹ کارڈکی پراسنگ فیس کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

    یونیکوڈ   سود 0
  • غیر مسلم ممالک سودی معاملہ کرنا

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرضہ اتارنے کیلئے سودی قرض لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • پھٹے ہوئے نوٹ کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   سود 1
  • پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے عنوان سے ملنے والی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   سود 1
  • مالکِ مکان کا سودے سے پیچھے ہٹنےپر ،خریدار کا اس سےبیعانہ کے ساتھ اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • ایزی پیسہ میں ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا سود دینےسے آمدن حرام ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا صرف سود وصول کرنا حرام ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
Related Topics متعلقه موضوعات