السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا سوال یہ ہے کہ میرے والد صاحب میرے ساتھ رہتے ہیں، ان کی عمر 85 سال سے زیادہ ہے۔ ان کی زکوٰۃ، فدیہ اور قربانی کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟ ہم چھ بھائی ہیں۔
والد صاحب کی ایک دکان بھی ہے جس سے ماہانہ کرایہ آتا ہے، لیکن وہ کرایہ ان کے اخراجات کے لیے کافی نہیں ہے اور اس کے علاوہ کوئی مستقل آمدنی بھی نہیں ہے۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ ان کی مالی شرعی ذمہ داریاں کس پر عائد ہوں گی؟
واضح ہوکہ مالی عبادات میں اصل مکلف صاحبِ مال ہی ہوتا ہے ،لہذا سائل کے والد محترم اگر صاحبِ نصاب ہوں (یعنی اتنا مال/آمدنی موجود ہو کہ بنیادی ضرورت سے زائد نصاب کے برابر بچتا ہو)، توان پرزکوٰۃ اور قربانی لازم ہوگی جوخودان کے مال سےاداکی جائے گی ، لیکن اگر وہ صاحبِ نصاب نہ ہوں توان پر زکوٰۃ اور قربانی واجب نہ ہوگی۔نیز ان کے فدیہ (اگر مراد روزوں کا فدیہ یا کفارہ ہو) وغیرہ کی ذمہ داری بھی خود انہی کی بنتی ہے،اس لیےسائل کے والدمحترم کوچاہیے کہ وہ اپنی مالی عبادات کی ذمہ داری موجودمال سے خودکریں اور اگراس وقت فوراًادائیگی کی گنجائش نہ ہواورزندگی میں اس کی تکمیل کی صورت ممکن معلوم نہ ہورہی تواس پرلازم ہے کہ اپنےترکہ سے اس کی ادئیگی کی وصیت کردیں تاکہ بعدمیں ورثاء پراس کی ادائیگی شرعاًلازم رہے ۔
جبکہ اولاد کےذمہ صرف محتاج وضرورت مندوالدین کانفقہ شرعاً لازم ہوتاہے ،اگروالدین محتاج یا کمزور و عاجز نہ ہوں تو اولادپرشرعاً نفقہ لازم نہیں ہوتا، چونکہ سائل کے والد معمر اور کم آمدنی والے ہیں، اس لیے اخلاقاً اور شرعاً تمام صاحب حیثیت اولاد پر ان کی کفالت، ضروری اخراجات اور مدد کرنا لازم و مستحسن ہے، جس کاانھیں اہتمام چاہیے۔
كما في الفتاوى الهندية: ويجبر الولد الموسر على نفقة الأبوين المعسرين مسلمين كانا أو ذميين قدرا على الكسب أو لم يقدرا (إلی قوله) وإذا اختلطت الذكور والإناث فنفقة الأبوين عليهما على السوية في ظاهر الرواية وبه أخذ الفقيه أبو الليث وبه يفتى كذا في الوجيز للكردري (1/ 564)۔
و في الهداية شرح البداية: وعلى الرجل أن ينفق على أبويه وأجداده وجداته إذا كانوا فقراء وإن خالفوه في دينه أما الأبوان فلقوله تعالى { وصاحبهما في الدنيا معروفا } (2/ 46)۔