السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں گزشتہ سات ماہ سے چار نابالغ بچوں کی سنگل مدر ہوں، اور 2021ء سے شرعی پردے کی پابندی کر رہی ہوں۔
طلاق کے بعد میرے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، نہ ہی میرے پاس کوئی ایسا مال یا سامان ہے جس سے میں اپنے بچوں کی کفالت کر سکوں۔ بچوں کے والد بھی ان کے اخراجات ادا نہیں کرتے۔
میرے اور میرے بچوں کے ضروری اخراجات 20 سے 25 ہزار روپے میں پورے نہیں ہو سکتے، جبکہ میں اس قابل ہوں کہ 50 سے 60 ہزار روپے ماہانہ کما سکوں۔ لیکن جب میں ملازمت کے لیے کوشش کرتی ہوں تو لوگ پردے کی وجہ سے انکار کر دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حجاب تو کیا جا سکتا ہے، لیکن نقاب قابلِ قبول نہیں ہے۔
اس وقت میرے مالی حالات بہت دشوار ہیں اور مجھے ملازمت کی شدید ضرورت ہے۔
براہِ کرم میری اصلاح اور رہنمائی فرمائیں کہ ایسی صورتِ حال میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا میں ملازمت کے لیے صرف حجاب پر اکتفا کر سکتی ہوں اور نقاب ترک کر سکتی ہوں؟ شریعت کی روشنی میں اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں بچوں کا نفقہ بنیادی طور پر ان کے والد کے ذمہ ہے، لہٰذا وہ بلا عذرِ شرعی بچوں کے واجب حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہے۔ چنانچہ سائلہ اپنے اور بچوں کے حقوق کی وصولی کے لیے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کی بھی مجاز ہے۔ البتہ اگر بچوں کی کفالت کا کوئی دوسرا ذریعہ موجود نہ ہو اور سائلہ واقعی مالی تنگی اور ضرورت کا شکار ہو، تو اس کے لیے اپنے اور اپنے نابالغ بچوں کے ضروری اخراجات پورے کرنے کی غرض سے شرعی حدود و آداب کی پابندی کے ساتھ جائز ملازمت اختیار کرنا شرعاً درست اور جائز ہے۔ تاہم اگر ملازمت کے دوران متعلقہ ادارہ یا انتظامیہ نقاب نہ کرنے کی شرط عائد کرے، تو ایسی شرط کو قبول کرنا اور اس پر عمل کرنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ اس ناجائز شرط پر مبنی ملازمت اختیار کرنے کے بجائے کسی دوسرے جائز اور مباح ذریعۂ معاش اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
قال الله تعالي في التنزيل : ﴿وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّهُۥ مَخۡرَجٗا ٢ وَيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُۚ وَمَن يَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِ فَهُوَ حَسۡبُهُۥٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ بَٰلِغُ أَمۡرِهِۦۚ قَدۡ جَعَلَ ٱللَّهُ لِكُلِّ شَيۡءٖ قَدۡرٗا﴾ [الطلاق: 2-3]
«تفسير القرطبي = الجامع لأحكام القرآن» : «وعن ابن عباس أيضا يجعل له مخرجا ينجيه من كل كرب في الدنيا والآخرة. وقيل: المخرج هو أن يقنعه الله بما رزقه، قاله علي بن صالح. وقال الكلبي: ومن يتق الله بالصبر عند المصيبة. يجعل له مخرجا من النار إلى الجنة. وقال الحسن: مخرجا مما نهى الله عنه. وقال أبو العالية: مخرجا من كل شدة. الربيع ابن خيثم: يجعل له مخرجا من كل شي ضاق على الناس. الحسين بن الفضل: ومن يتق الله في أداء الفرائض، يجعل له مخرجا من العقوبة. (ويرزقه) الثواب «من حيث لا يحتسب) أي يبارك له فيما آتاه. وقال سهل بن عبد الله: ومن يتق الله في اتباع السنة يجعل له مخرجا من عقوبة أهل البدع، ويرزقه الجنة من حيث لا يحتسب. وقيل: ومن يتق الله في الرزق بقطع العلائق يجعل له مخرجا بالكفاية. وقال عمر بن عثمان الصدفي: ومن يتق الله فيقف عند حدوده ويجتنب معاصيه يخرجه من الحرام إلى الحلال، ومن الضيق إلى السعة، ومن النار إلى الجنة. ويرزقه من حيث لا يحتسب من حيث لا يرجو. وقال ابن عيينة: هو البركة في الرزق. وقال أبو سعيد الخدري: ومن يبرأ من حوله وقوته بالرجوع إلى الله يجعل له مخرجا مما كلفه بالمعونة له.»(18/ 159)
وفي «تفسير البيضاوي = أنوار التنزيل وأسرار التأويل» : والمستثنى هو الوجه والكفان لأنها ليست بعورة والأظهر أن هذا في الصلاة لا في النظر فإن كل بدن الحرة عورة لا يحل لغير الزوج والمحرم النظر إلى شيء منها إلا لضرورة كالمعالجةوتحمل الشهادة.(4/ 104)
وفي «حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» : «فإن خاف الشهوة) أو شك (امتنع نظره إلى وجهها) فحل النظر مقيد بعدم الشهوة وإلا فحرام وهذا في زمانهم، وأما في زماننا فمنع من الشابة قهستاني وغيره»(6/ 370)
جوائنٹ فیملی میں حجاب و پردے کا حکم- انتقال کے بعد میاں بیوی کے رشتہ کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0مرد ڈاکٹر کا مریض عورتوں کو دیکھنے ،چھونے اور طالبات کو نرسنگ سیکھانے کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 1غیر محرم کے سامنے بغیر پردہ اور ننگے سر پھرنا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0