میری کیفیت اور والد محترم کی صورتحال
میری عمر اس وقت 23 سال ہے جبکہ میرے والد صاحب کی عمر 67 سال ہے۔ جب سے میں نے آنکھ کھولی ہے، اپنے والد کو ہمیشہ دو کاموں میں مشغول دیکھا: ایک تبلیغی جماعت میں جانے میں اور دوسرا لوگوں کو دم درود کرنے میں۔ ان دو کاموں میں وہ اس قدر مصروف اور شدت پسند تھے کہ انہوں نے ملازمت چھوڑ دی اور اپنا چھوٹا موٹا کاروبار کرنے لگے۔ ابتدا میں حالات کچھ بہتر رہے، مگر وقت کے ساتھ مشکلات بڑھتی گئیں۔
میرے والد کے مزاج میں شروع سے ہی بہت زیادہ غصہ تھا۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر والدہ اور ہم دونوں بھائیوں کو سخت سست کہتے اور ذلیل کرتے۔ ان کے اندر منفی سوچ بھی بہت زیادہ تھی جس کی وجہ سے اکثر اپنے بہن بھائیوں کے بارے میں بدگمانی رکھتے اور ان سے بد اخلاقی کرتے۔
وقت گزرتا گیا، ہم بڑے ہوتے گئے۔ میں نے اکثر والد کو نوجوان لڑکیوں سے دم درود کے بہانے فون پر بات کرتے دیکھا اور ایک مرتبہ تو تصویریں بھی ایکسچینج ہوتی دیکھیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی میں نے والدہ کو کچھ نہیں بتایا تاکہ گھر کا ماحول مزید خراب نہ ہو۔ میری والدہ ایک نہایت صابر اور شاکر خاتون ہیں۔
ان حالات کی وجہ سے والد صاحب کبھی بھی اچھی کمائی نہ کر سکے۔ جب کووڈ کے بعد کاروبار بالکل ختم ہوگیا تو ہم اپنے تایا کے سہارے آ گئے۔ تایا ہمارے اخراجات برداشت کرنے لگے، مگر والد ہمیں گھر کے معاملات میں کبھی شامل نہ کرتے، اس لیے ہمیں اس بات کا علم نہ ہو سکا۔ ہمیں یہ گمان تھا کہ شاید ان کے پاس کچھ نہ کچھ مال و دولت موجود ہے۔ لیکن 14 مارچ 2024 کو جب والد کو فالج ہوا تو حقیقت کھل گئی کہ ان کے پاس نہ کوئی دولت ہے اور نہ کوئی سہارا۔ اس کے بعد سے ہم مکمل طور پر دوسروں پر انحصار کر رہے ہیں۔ تایا ہی والد کا علاج اور ہمارے گھر کا خرچ برداشت کر رہے ہیں۔
تقریباً ڈیڑھ سال سے والد بستر پر ہیں۔ میں اور میرا بھائی ان کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، مگر وہ ہمیں مسلسل برا بھلا کہتے اور ہماری عزت گھٹاتے رہتے ہیں۔ ہم بھی بعض اوقات ان کے رویے پر بدتمیزی کر بیٹھتے ہیں۔ ان کے معالج ڈاکٹر اور فزیو تھراپسٹ بھی ان کی بد اخلاقی کی شکایت کرتے ہیں اور کئی بار چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ اسی طرح ان کا اٹینڈنٹ بھی ان کے رویے سے تنگ آ چکا ہے۔
مجھے ہر روز والد کے رویے پر ان سے جھگڑنا پڑتا ہے کہ آپ ڈاکٹر اور اٹینڈنٹ کو کیوں تنگ کرتے ہیں اور خود کو بہتر کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ حالانکہ ہم نے ان کے علاج معالجے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی ہے۔ میں خود ان کی خدمت کرتا ہوں، انہیں غسل کراتا ہوں، باتھ روم لے جاتا ہوں، مگر ساتھ ساتھ ان کی پرانی حرکتیں اور والدہ کے ساتھ ان کا رویہ یاد آ کر میرے دل میں سختی پیدا کر دیتا ہے، اور میں بھی تلخ ہو جاتا ہوں۔
میری خواہش ہے کہ میں اپنے والد کی اس طرح خدمت کروں کہ مجھے جنت نصیب ہو، مگر ان کی سختیوں اور پرانی باتیں یاد آ کر صبر کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اب میں تذبذب میں ہوں کہ میں اپنے والد کو کس طرح بہتر کروں اور ان کی خدمت کر کے جنت کما سکوں۔
سائل نے اپنے والد صاحب کے متعلق جو حالات ذکر کیے ہیں، ان میں اگرچہ والد صاحب کی بعض کوتاہیاں اور بد اخلاقیاں قابلِ افسوس ہیں، تاہم ان کوتاہیوں کی وجہ سے والد کے شرعی حقوق ساقط نہیں ہوتے۔ خصوصاً موجودہ حالت میں جبکہ وہ بیماری اور بڑھاپے کی وجہ سے دوسروں کے محتاج ہیں، ان کی خدمت، تیمارداری اور ضروریات کا خیال رکھنا عظیم نیکی اور باعثِ اجر ہے۔بلکہ بیٹاہونے کے ناطے سائل کی شرعی ذمہ داری بھی ہے۔
لہٰذا سائل کو چاہیے کہ ماضی کی تلخ یادوں کو دل پر غالب نہ آنے دے اور حتی المقدور صبر، تحمل ،اخلاص اور حسنِ اخلاق کے ساتھ والد صاحب کی خدمت جاری رکھے۔ اورکسی موقع پران کےمفادکی خاطر کسی بات پر تنبیہ کرنےکی نوبت پیش آئےتب بھی جھگڑے اور سخت کلامی سے اجتناب کرتےہوئےنرمی اور ادب کے ساتھ بات کرنے کااہتمام کرے۔ سائل کایہی طرزِ عمل جنت کے حصول اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بنے گا۔ ان شاء اللہ
کماقال اللہ تعالی فی التنزیل : ﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنًاۚ إِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّٖ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلٗا كَرِيمٗا ٢٣ وَٱخۡفِضۡ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّحۡمَةِ وَقُل رَّبِّ ٱرۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرٗا ٢٤ رَّبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمۡۚ إِن تَكُونُواْ صَٰلِحِينَ فَإِنَّهُۥ كَانَ لِلۡأَوَّٰبِينَ غَفُورٗا ٢٥﴾ [الإسراء: 23-25]
وفی «تفسير القرطبي = الجامع لأحكام القرآن» : قوله تعالى: (ربكم أعلم بما في نفوسكم) أي من اعتقاد الرحمة بهما والحنو عليهما، أو من غير ذلك من العقوق، أو من جعل ظاهر برهما رياء. وقال ابن جبير: يريد البادرة التي تبدر، كالفلتة والزلة، تكون من الرجل إلى أبويه أو أحدهما، لا يريد بذلك بأسا، قال الله تعالى: (إن تكونوا صالحين) أي صادقين في نية البر بالوالدين فإن الله يغفر البادرة. وقوله: (فإنه كان للأوابين غفورا) وعد بالغفران مع شرط الصلاح والأوبةإلى طاعة الله سبحانه وتعالى. قال سعيد بن المسيب: هو العبد يتوب ثم يذنب ثم يتوب ثم يذنب. وقال ابن عباس رضي الله عنه: الأواب: الحفيظ الذي إذا ذكر خطاياه استغفر منها.(10/ 246)