مجھے گرد و غبار (ڈسٹ) سے شدید الرجی ہے، جس کی وجہ سے میری ناک اکثر بند رہتی ہے اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ میں گھر سے باہر نکلتے وقت نقاب اور ماسک دونوں استعمال کرتی ہوں، لیکن جب سانس لینے میں بہت زیادہ تکلیف ہونے لگتی ہے تو مجبوری کی وجہ سے نقاب بار بار ہٹانا پڑتا ہے تاکہ سانس لے سکوں۔ میری نیت ہرگز یہ نہیں ہوتی کہ غیر محرم مرد میرا چہرہ دیکھیں، بلکہ یہ صرف سانس لینے کی مجبوری ہوتی ہے۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس مجبوری کی وجہ سے بار بار نقاب ہٹانا گناہ ہے؟ جزاکم اللہ خیراً۔
صورت مسئولہ میں اوّلاً تو مذکورہ خاتون کو چاہیے کہ اپنی سہولت کے مطابق پردہ کے لیے ایسی چادر یا برقعہ وغیرہ استعمال کرے جس سے چہرہ چھپا رہے اور سانس لینے میں بھی دشواری نہ ہو ،تاہم اگر کسی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو مذکورہ عذر کی وجہ سے ضرورت کے وقت بقدرِ ضرورت چہرے سے نقاب ہٹانے کی گنجائش ہے۔
الدر المختار مع رد المحتار: (فإن خاف الشهوة) أو شك (امتنع نظره إلى وجهها) فحل النظر مقيد بعدم الشهوة وإلا فحرام وهذا في زمانهم، وأما في زماننا فمنع من الشابة قهستاني وغيره (إلا) النظر لا المس (لحاجة) كقاض وشاهد يحكم (ويشهد عليها) لف ونشر مرتب لا لتتحمل الشهادة في الأصح (وكذا مريد نكاحها) ولو عن شهوة بنية السنة لا قضاء الشهوة (وشرائها ومداواتها ينظر) الطبيب (إلى موضع مرضها بقدر الضرورة) إذ الضرورات تتقدر بقدرها.(قوله :وأما في زماننا فمنع من الشابة): لا، لأنه عورة بل لخوف الفتنة كما قدمه في شروط الصلاة.(6/370، دار الفکر)
جوائنٹ فیملی میں حجاب و پردے کا حکم- انتقال کے بعد میاں بیوی کے رشتہ کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0مرد ڈاکٹر کا مریض عورتوں کو دیکھنے ،چھونے اور طالبات کو نرسنگ سیکھانے کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 1غیر محرم کے سامنے بغیر پردہ اور ننگے سر پھرنا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0