سر! اگر اللہ سے کیا ہوا وعدہ پورا نہ کیا جائے تو کیا اس کا کفارہ ہے؟ اور کیا وہ وعدہ بدستور برقرار رہے گا؟
واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ سے کیا گیا وعدہ اگر محض ایک وعدہ ہو، نذر (منت) یا قسم وغیرہ نہ ہو ، تواس کی خلاف ورزی پر اگرچہ کفارہ لازم نہ ہوگا، تاہم اس وعدہ کو پورا کرنا بہرصورت لازم اور خلاف ورزی پر گناہ ہوگا،جبکہ وعدہ خلافی کی صورت میں اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ ضروری ہے اور اگر اس کے بعد بھی وعدہ کو پورا کرنا ممکن ہو تو اسے پورا کرنے کا اہتمام کیا جائے، کیونکہ وہ وعدہ بدستور برقرار رہے گا، البتہ اگر یہ وعدہ قسم کے الفاظ (مثلاً: "اللہ کی قسم، میں یہ کام کروں گا") یا نذر کے الفاظ (مثلاً: "اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو اللہ کے لیے میرے ذمہ فلاں ،فلاں عمل کرنا لازم ہوگا") کے ساتھ کیا گیا ہو، تو اس کا پورا کرنا لازم ہے، جبکہ حانث ہونے کی صورت میں کفارہ قسم بھی لازم ہوگا، جو کہ بوقت ضرورت مسئلہ کی وضاحت لکھ کر حکم شرعی معلوم کیا جاسکتا ہے۔
كما في قوله تعالي: وأوفوا بعهد الله اذا عاهدتم و لاتنقضوا الأيمان بعد توكيدها و قد جعلتم الله عليكم كفيلا ان الله يعلم ما تفعلون (سورة النحل، رقم الاية:91)۔
وفي احكام القران للجصاص: وأوفوا بعهد الله الخ، قال ابوبكر: العهد ينصرف علي وجوه فمنها الأمر..... و قد يكون العهد يمينا و دلالة الاية ..... و لاتنقضوا الأيمان بعد توكيدها، ولذلك قال اصحابنا ان من قال علي عهد الله ان فعلت كذا، انه حالف اھ (مطلب ھذہ الآیۃ علی صحۃ القول بالقیاس، ج:3، ص:190، م:سھیل اکیڈمی)۔
وفي مرقاة المفاتيح: و عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: آية المنافق ثلاث زاد مسلم وإن صام و صلى و زعم أنه مسلم ثم اتفقا: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان اھ ۔
قولہ: (و إذا وعد) أي أخبر بخير في المستقبل إذ "وعد" يغلب في الخير، و "أوعد" في الشر، و أيضا الخلف في الوعيد من مكارم الأخلاق،(باب الکبائر علامات النفاق ، ج:1، ص:225،226، م:حقانیۃ)۔
وفی الاشباہ والنظائر: الخلف في الوعد حرام كذا في أضحية الذخيرة اھ۔
قولہ: (الخلف الخ)قال السبکی: ظاھر الآیات و السنۃ تقتضی وجوب الوفاء،و قال صاحب العقد الفرید فی التقلید: انما یوصف بما ذکر ای بان خلف الوعد نفاق اذا قارن الوعد العزم علی الخلف،کما فی قول المذکورین فی آیۃ: لئن اخرجتم لنخرجن معکم، فوصفوا بالنفاق لابطانھم خلاف ما اظھروا، و اما من عزم علی الوفاء ثم بدا لہ فلم یف فلا، فھذا لم یوجد منہ صورۃ النفاق کما فی الاحیاء من حدیث طویل عند ابی داوٗد و الترمذی مختصراً بلفظ: اذا وعد الرجل اخاہ و من نیتہ ان یفی فلم یف فلا اثم علیہ (کتاب الحظر و الاباحۃ،ج:2، ص:464، م:ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیۃ)۔