محترم مفتیانِ کرام !
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
ہم نے فیملی کورٹ سے خلع کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اس سلسلے میں عدالت کے تمام دستیاب کاغذات اس استفتاء کے ساتھ منسلک ہیں۔
سائلہ نے وضاحت کی کہ شوہر خلع دینے پر راضی نہیں تھا۔ فیصلے کے دن حاضر بھی نہیں ہوا تھااور نہ دستخط کئے۔جج نے صلح کرنے کا موقع دیا تھا مگر علیحدہ گھر دلانے پر شوہر راضی نہیں تھا اور بیوی مشترکہ گھر میں رہنے کو تیار نہیں تھی۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
کیا ان منسلکہ عدالتی کاغذات کی روشنی میں شرعی اعتبار سے بھی خلع واقع ہوگیا ہے یا نہیں؟
موجودہ صورت میں کیا ہم دونوں دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں یا نہیں؟
سوال کے ساتھ منسلک عدالتی دستاویزات اور سائلہ کے بیان کا شرعی نکتہ نظر سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مذکورہ دستاویزات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عدالت نے صلح کی کارروائی ناکام ہونے پر شوہر کی اجازت اور رضامندی کے بغیر نکاح کو خلع کی بنیاد پر ختم کرنے کا حکم جاری کیا ہے، جبکہ شرعاً خلع کے صحیح اور معتبر ہونے کے لیے میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے، اگر شوہر خلع پر راضی نہ ہو اور قبولیت کا اظہار نہ کرے، تو محض عورت کے مطالبے یا عدالتی یک طرفہ ڈگری سے شرعی خلع واقع نہیں ہوتا ۔اور چونکہ ریکارڈ کے مطابق شوہر خلع پر راضی نہیں تھا اور نہ ہی اس نے عدالت میں قبولیت کا اظہار کیا، اس لیے یہ خلع شرعاً معتبر نہیں، اور مذکور عدالتی خلع کی وجہ سے شرعاً نکاح ختم نہیں ہوا، لہٰذا دونوں بدستور شرعاً میاں بیوی ہیں اور بغیر تجدید نکاح کے حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں۔
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي»
«وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول… وفيها أيضا قال: خالعتك على كذا وسمى مالا معلوما لا يقع الطلاق ما لم تقبل، كما لو قال " طلقتك " على ألف اهـ أي لأنه معلق على القبول.»(3/ 441)