کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے محلے میں مؤذن صاحب نے افطاری کے ٹائم پورا ہونے سے چار ، پانچ منٹ پہلے اذان دیدی ہے، اور اس پر کچھ لوگوں نے روزہ افطار بھی کر لیا ہے، اب آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ ان لوگوں کے روزے کا کیا حکم ہے جنہوں نے افطار کر لیا ہے ؟
جن لوگوں نے مؤذن کی اذان دینے کی وجہ سے وقت سے پہلے افطار کر لیا ان کا روزہ درست اداء نہیں ہوا جس کی وجہ سے ان پر صرف ایک روزہ لازم ہے جبکہ مذکور موذن صاحب اپنی اس غفلت اور بے احتیاطی کی وجہ سے گناہ گار ہوئے ہیں، ان پر بصدق دل توبہ و استغفار لازم ہے۔
ففي الدر المختار: (أو تسحر أو أفطر يظن اليوم) أي الوقت الذي أكل فيه (ليلا و) الحال أن (الفجر طالع والشمس لم تغرب) لف ونشر ويكفي الشك في الأول دون الثاني عملا بالأصل فيهما (وإلى قوله) (قضى) في الصور كلها (فقط) اھ (2/ 405) والله تعالى أعلم
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0