کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ : ایک لڑکا، کافی عرصے سے بیمار تھا اور اس بیماری کی حالت میں اس کے کچھ روزے رہ گئے تھے ، صحت نہ ملنے کی وجہ سے اسے روزے رکھنے کا بالکل موقع ہی نہیں ملا اور اسی بیماری میں اس کا انتقال ہو گیا۔ اس لڑکے نے بیماری کی حالت میں فدیہ دینے کی وصیت بھی کی تھی تو پوچھنا یہ ہے کہ اس کے ذمے فدیہ ہے یا نہیں ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دے کر ممنون فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا۔
مذکور لڑکا جس بیماری میں مبتلا تھا اس سے شفاء یاب ہونے سے قبل بیماری کی حالت میں اس کا انتقال ہو اہو اور اسے قضاء روزے رکھنے کی فرصت نہیں ملی ہو، تو ایسی صورت میں شرعا اس کے ذمہ رہ جانے والے روزوں کا فدیہ دینا یا اس کی وصیت کر ناشر عالازم نہیں تھا، اس لئے اب مرحوم کی وصیت کے مطابق عمل کرنا بھی لازم نہیں۔
کما في الدر المختار: (فإن ماتوا فيه) أي في ذلك العذر (فلا تجب) عليهم (الوصية بالفدية) لعدم إدراكهم عدة من أيام أخر (ولو ماتوا بعد زوال العذر وجبت) الوصية بقدر إدراكهم عدة من أيام أخر، وأما من أفطر عمدا فوجوبها عليه بالأولى (وفدى) لزوما (عنه) أي عن الميت (وليه) الذي يتصرف في ماله (كالفطرة) قدرا (بعد قدرته عليه) أي على قضاء الصوم (وفوته) أي فوت القضاء بالموت فلو فاته عشرة أيام فقدر على خمسة فداها فقط (بوصيته من الثلث) اھ (2/ 424)
و في الفتاوى الهندية: ولو فات صوم رمضان بعذر المرض أو السفر واستدام المرض والسفر حتى مات لا قضاء عليه لكنه إن أوصى بأن يطعم عنه صحت وصيته وإن لم تجب عليه ويطعم عنه من ثلث ماله فإن برئ المريض أو قدم المسافر وأدرك من الوقت بقدر ما فاته فيلزمه قضاء جميع ما أدرك فإن لم يصم حتى أدركه الموت فعليه أن يوصي بالفدية كذا في البدائع اھ (1/ 207) و الله اعلم بالصواب