کیا فرماتے ہیں علماء دین اس بارے میں کہ اگر ایک آدمی روزہ افطار ہونے سے تقریبا 15 منٹ پہلے شوال کا چاند دیکھ لیتا ہے( یعنی عید کا چاند ) تو کیا اس آدمی کو روزہ افطار کر لینا چاہیے یا ٹھیک ٹائم پر روزہ افطار کرنا چاہیے ؟
اگر کچھ آدمی چاند دیکھتے ہی روزہ افطار کر دیں۔ اور کچھ آدمی روزہ افطار نہ کریں تو جو آدمی ٹھیک نہیں ان کے لیے کیا شریعی حکم کیا ہے۔ مفصل فتویٰ جاری فرمائیں۔
ایسی صورت میں بھی غروب آفتاب کے بعد افطار کرنا لازم ہے، لہذا جن حضرات نے چاند دیکھتے ہی افطار کر لیا ہے وہ بہت سخت گناہ گار ہوئے ان پر صدق دل سے توبہ و استغفار کے ساتھ قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہیں ۔
ففي البزازية : راى هلال الفطر وقت العصر فظن القضاء مدته وافطر قال في المحيط اختلفوا في لزوم الكفارة والأكثر على الوجوب (هامش الهندیة : ۴/ ۱۰۰) والله اعلم بالصواب
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0