کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ مختلف اوقات میں بیماری کی وجہ سے میرے چھ سات سال کے روزے چھوٹ گئے ہیں مجھے ہارٹ اٹیک ، دمہ ، شوگر کی بیماریاں لاحق ہیں اور کئی مرتبہ کالا زرد بخار ، گردن توڑ بخار ہوا ہے اور اب میری ستر سال عمر ہو گئی ہے اگر میں ان ان فوت شدہ روزوں کی قضاء کرنا چاہوں تو نہیں کر سکتا ، اس وجہ سے کہ فوراً دوبارہ اٹیک ہو جاتا ہے ۔
اب ب پوچھنا یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں میرے لئے کیا حکم ہے؟ آیا اس کی کوئی فدیہ وغیرہ ہوگی یا کوئی اور صورت قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔
صورت مسئولہ میں سائل کے اس چھ سات سال کی مدت میں مذکور بیماریوں کی وجہ سے جتنے بھی روزے رہ گئے ہیں، اتنے دنوں کی قضاء یا فدیہ اس پر لازم نہیں ، البتہ ان بیماریوں سے صحت یاب ہونے کے بعد جتنے ایام کے روزے رکھنے پر وہ ، قادر ہو گیا تھا مگر نہیں رکھ سکا، فقط اتنے دنوں کی قضاء لازم ہے ۔ اب اگر وہ کسی بناء پر اخیر عمر تک قضاء کے یہ روزے نہ رکھ سکے تو اس صورت میں انتقال سے قبل فقط ان ایام کی بقدر فدیہ دیدینے کی وصیت لازم ہے ۔
ففي الدر المختار: (وقضوا) لزوما (ما قدروا بلا فدية و) بلا (ولاء) (إلی قوله) (و) لو جاء رمضان الثاني (قدم الأداء على القضاء) (إلی قوله) (إن لم يضره فإن ماتوا فيه) أي في ذلك العذر (فلا تجب) عليهم (الوصية بالفدية) لعدم إدراكهم عدة من أيام أخر اھ (2/ 423) والله اعلم بالصواب
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0