السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب دامت برکاتہ!
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔
ایک شرعی مسئلہ معلوم کرنا مقصود ہے۔ ایک خاتون کے سگے بھائی کی اہلیہ کے ہاں ولادت متوقع ہے۔ احتیاطاً پہلے سے شرعی رہنمائی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
اگر اللہ تعالیٰ بیٹی عطا فرمائیں تو وہ اس بچی کو اپنی کفالت (گود) میں لے کر اپنی اولاد کی طرح پرورش کرنا چاہتی ہیں۔ چونکہ اس خاتون کی اپنی کوئی اولاد نہیں ہے، اس لیے وہ بچی کو رضاعت نہیں دے سکتیں۔
اصل مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ جب بچی بڑی ہو جائے تو اس خاتون کے شوہر کے ساتھ اس کی محرمیت کس طرح قائم ہو سکتی ہے، تاکہ مستقبل میں پردے کا مسئلہ نہ رہے۔
براہِ کرم درج ذیل امور کی وضاحت فرما دیں:
1. کیا فقہ حنفی کے مطابق ایسی کوئی شرعی صورت موجود ہے جس کے ذریعے یہ بچی اس خاتون کے شوہر کی محرم بن جائے؟
2. اگر اس خاتون کے شوہر کی حقیقی بہن (یعنی بچی کی ہونے والی پھوپھی) دو قمری سال کی عمر کے اندر اس بچی کو شرعی رضاعت دیدے ، تو کیا اس صورت میں یہ بچی اس خاتون کے شوہر کی رضاعی بھانجی شمار ہوگی اور اس کے لیے محرم بن جائے گی؟
3. اگر مذکورہ صورت درست نہیں، تو اس مسئلے کا صحیح شرعی حل فقہ حنفی کی روشنی میں کیا ہے؟
قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
جزاکم اللہ خیراً کثیراً
والسلام
صورتِ مسئولہ میں مذکور خاتون کیلئے اپنی پیدا ہونے والی بھتیجی کو گود لینا تو شرعاً جائز اور درست ہے، البتہ مذکور خاتون کی بھتیجی اور اس کے شوہر کے درمیان چونکہ محرمیت کا کوئی سبب موجود نہیں، اس لئے محض گود لینے اور پرورش کرنے کی وجہ سے مذکور خاتون کی بھتیجی اس کے شوہر کے لئے محرم نہ ہوگی۔ تاہم مذکور خاتون کے شوہر کی حقیقی بہن (یعنی بچی کی ہونے والی پھوپھی) اگر مدتِ رضاعت میں اسے اپنا دودھ پلا دے، تو وہ بچی اس کی رضاعی بیٹی اور اس کے بھائی (یعنی خاتون کے شوہر) کی رضاعی بھانجی بن جائے گی۔ اور جس طرح حقیقی بھانجی محرم ہوتی ہے، اسی طرح رضاعی بھانجی بھی محرم ہوتی ہے۔ چنانچہ رضاعی بھانجی بننے کی وجہ سے مذکور بچی کے بالغہ ہونے کے بعدگود لینے والی خاتون کے شوہر کو اس سے پردہ کرنے کی ضرورت بھی نہ ہوگی، اور مذکورہ طریقہ اختیار کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ لیکن رضاعت کا رشتہ ثابت ہونے کے باوجود مذکور خاتون کا شوہر، جو کہ بچی کا حقیقی والد نہیں ہے، اس لئے اس کے لئے کلی طور پر بچی کو اپنی طرف منسوب کرنا اور اس کے بے فارم وغیرہ دیگر دستاویزات میں والدین کے خانے میں بطورِ والد اپنا نام لکھوانا جائز نہیں بلکہ بچی کے حقیقی والد کا نام ہی درج کرانا لازم ہوگا۔
کماقال اللہ تعالی: ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم وليس عليكم جناح فيما أخطأتم به ولكن ما تعمدت قلوبكم وكان الله غفورا رحيما (الأحزاب: ٥)
وفي سنن ابي داؤد: عن سليمان بن يسار، عن عروة عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة(باب يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب،ج:1،ص:866،ط:بشری)
وفى الدر المختار: ( فيحرم منہ) ای بسببہ(مایحرم من النسب ) اھ (باب الرضاع،ج:3،ص: 213،ط:سعید)
وفى الهندية : يحرم على الرضيع ابواه من الرضاع و اصولھما و فروعھما من النسب و الرضاع جميعا حتی ان المرضعۃ لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذه الارضاع أوبعده أو ارضعت رضیعاً أو ولد لھذا الرجل من غیر ھذہ المرأۃ قبل ھذا الارضاع أو بعدہ أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل اخوة الرضيع وأخواته و أولادهم أولاد أخوته وأخواته وأخو الرجل عمه واخته عمته وأخو المرضعة خاله و اختھا خالته وكذا في الجد والجدةاھ(كتاب الرضاع،ج;1،ص:343،ط:ماجدیہ )
وفي البحرالرائق : (قوله: زوج مرضعة لبنها منه أب للرضيع وابنه أخ وبنته أخت وأخوه عم وأخته عمة) بيان لأن لبن الفحل يتعلق به التحريم لعموم الحديث المشهور وإذا ثبت كونه أبا له لا يحل لكل منهما موطوءة الآخر، والمراد به اللبن الذي نزل من المرأة بسبب ولادتها من رجل زوج أو سيد فليس الزوج قيدا في كلامه قال في الجوهرة: وإنما خرج مخرج الغالب وإذا ثبتت هذه الحرمة من زوج المرضعة فمنها أولى فلا تتزوج الصغيرة أبا المرضعة لأنه جدها لأمها ولا أخاها لأنه خالها ولا عمها لأنها بنت بنت أخيه ولا خالها لأنها بنت بنت أخته ولا أبناءها، وإن كانوا من غير صاحب اللبن لأنهم إخوتها لأمهااھ(باب الرضاع،ج:3،ص:226،ط:رشیدیۃ)۔
جوائنٹ فیملی میں حجاب و پردے کا حکم- انتقال کے بعد میاں بیوی کے رشتہ کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0مرد ڈاکٹر کا مریض عورتوں کو دیکھنے ،چھونے اور طالبات کو نرسنگ سیکھانے کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 1غیر محرم کے سامنے بغیر پردہ اور ننگے سر پھرنا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0