السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب!
ہم مختلف کاروبار کرتے ہیں، جس میں لوگوں سے رقم بطور سرمایہ وصول کرتے ہیں اور اس کے بدلے انہیں منافع دیتے ہیں۔ منافع کی شرح ہم باہمی رضامندی سے پہلے سے طے کر لیتے ہیں۔ نیز ہم ان لوگوں کو سیکیورٹی بھی دیتے ہیں تاکہ انہیں اطمینان رہے، کیونکہ نیا سرمایہ کار کاروبار میں رقم لگاتے ہوئے اس بات سے ڈرتا ہے کہ اگر کاروبار میں نقصان ہوگیا تو اس کی رقم کا کیا ہوگا۔ چنانچہ ہم سیکیورٹی اپنی طرف سے دیتے ہیں اور اگر کاروبار میں نقصان ہوجائے تو اس نقصان کو بھی ہم خود برداشت کرتے ہیں۔
الحمدللہ! تقریباً چار سال سے ہم یہ کاروبار کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک کوئی نقصان نہیں ہوا، بلکہ صرف نفع ہی ہوا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی مرضی سے یہ شرط طے کرسکتے ہیں کہ اگر کاروبار میں نقصان ہوا تو ہم سرمایہ کار کو مثلاً اتنے فیصد رقم دیں گے؟
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ اس طرح کا کاروبار شرعی اعتبار سے جائز ہے یا نہیں؟ نیز اس سے حاصل ہونے والا نفع حلال ہے یا نہیں؟
جزاکم اللہ خیراً کثیراً۔
سائل کا کاروبار اگر باقاعدہ رجسٹرڈ ہو اور اسے کاروبار کے لیے لوگوں سے سرمایہ لینے کی اجازت ہو تو ایسی صورت میں سائل کا کاروبار کے لیے لوگوں سے پیسے لینا اور نفع کی تقسیم کے لیے باہمی رضامندی سے کوئی فیصدی تناسب طے کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔ البتہ کاروباری نقصان کی ذمہ داری سے سرمایہ کار کو محفوظ کرنا یا تعدی و غفلت کے بغیر ہونے والے نقصان کی صورت میں بھی پہلے سے کوئی متعین فیصدی رقم دینے کی شرط رکھنا درست نہیں۔ لہٰذا سیکیورٹی کے طور پر اصل سرمایہ کی ضمانت دینا یا نقصان کی صورت میں متعین فیصد رقم دینے کی شرط رکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
کما فی بدائع الصنائع: (ومنها) : أن يكون الربح جزءًا شائعًا في الجملة، لا معينًا، فإن عينا عشرةً، أو مائةً، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدةً؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لايحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلايتحقق الشركة في الربح.(6/59، ط: دار الکتب العلمیۃ)
وفیہ أیضاً: والوضیعة علی قدر المالین متساویا ومتفاضلا؛ لأن الوضیعة اسم لجزء ہالک من المال فیتقدر بقدر المال.(6/ 62، ط: دار الکتب العلمیۃ)
وفی درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: فجهالته تفسد العقد (وغيره لا) أي غير ذلك من الشروط الفاسدة لا يفسد المضاربة (بل يبطل الشرط كاشتراط الخسران على المضارب) لأنها جزء هالك من المال فلا يجوز أن يلزم غير رب المال لكنه شرط زائد لا يوجب قطع الشركة في الربح والجهالة فيه فلا يفسد المضاربة(3/459)
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0