السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته مفتی صاحب ! میرے تین چچاؤں کا اور والد کا مشترکہ کاروبار تھا جس میں زیادہ کام میرے والد صاحب کا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے باقی بھائیوں کی رضامندی سے اپنے لیے شرکت کے اندر 31 فیصد نفع رکھا تھا اور باقی دو بھائیوں کے لیے 25.25 فیصد اور ایک بھائی کے لیے 19 فیصد تک اور زندگی بھر اسی شرح پر میرے والد اور میرے چچاؤں کا کاروبار چلتارہا۔ 2022 کے اندر میرے والد کا انتقال ہو گیا تو میرے والد کے انتقال کے بعد میرے چچاؤں نے ایک بڑی رقم میرے اکاؤنٹ سے نکال لی اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ آپ کے والد مرحوم نے اپنے لیے جو شرح منافع زیادہ رکھی ہوئی تھی وہ صیح نہیں تھی۔ یہ شرح منافع سب کی رضامندی سے رکھی گئی تھی اور میرے چچاؤں کا کہنا ہے کہ ہم 2016 سے اپنے بڑے بھائی کو کہہ رہے تھے کہ یہ شرح منافع برابر کی جائے۔
جناب مفتی صاحب !
میر اسوال یہ ہے کہ کیا میرے والد مرحوم نے جو اپنے لیے 31 فیصد شرح منافع رکھی تھی باقی بھائیوں کی رضامندی سے تو کیا شرعی طور پر یہ جائز ہے ؟
دوسراسوال یہ ہے کہ میرے والد کے انتقال کے بعد جو اضافی شرح منافع کی رقم میرے چچاؤں نے میرے اکاؤٹ سے نکالی ہے کیا ان کا یہ رقم نکالنا جائز ہے یا نا جائز ہے اور اگر نا جائز ہے تو ان کو یہ رقم واپس کرنی چاہئے یا نہیں کرنی چاہئے ؟
واضح ہو کہ مشترکہ کاروبار (Partnership)میں اگر تمام شرکاء عملاً کاروبار میں شریک(Working Partner) ہوں تو شرکاء کا باہمی رضامندی سے منافع کی تقسیم کےلئے مختلف تناسب طے کرنا اور کسی ایک شریک کے منافع کا تناسب دوسرے سے زیادہ رکھنا،شرعاً جائز اور درست ہے،خواہ ان کا سرمایہ برابر ہی کیوں نہ ہو۔کیونکہ فقہاء کرام رحمہم اللہ کی تصریحات کے مطابق نفع کا استحقاق جس طرح مال کی وجہ سے ہوتاہے ایسے ہی کوئی شخص محنت اور مہارت کی وجہ سے بھی منافع کا مستحق ہوتاہے۔لہٰذا سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر درست اور واقعہ کے مطابق ہو،اس طور پر کہ سائل کے والد مرحوم اور چچاؤں نے اپنے مشترکہ کاروبار میں سائل کے والد مرحوم کے تعلیم یافتہ ہونے اور کاروباری امور میں مہارت رکھنے کی وجہ سے ان کےلئے دیگر شرکاء کی بنسبت منافع میں سے زیادہ حصہ مقرر کیا ہو تو ایسا کرنا شرعا بلا شبہ جائز اور درست عمل تھا،اسے غیر شرعی یا غیر منصفانہ کہنا درست نہیں۔ چنانچہ دورانِ کاروبار 2016 میں سائل کے چچاؤں نے اگر چہ اپنا منافع بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا،لیکن اگر تمام شرکاء کی رضامندی سے منافع کی تقسیم کےلئے باقاعدہ معاہدہ کے تحت نیا فیصدی تناسب طے نہیں ہوا تھا،تو فقط اپنا مطالبہ رکھنے سے سائل کے چچا زیادہ منافع کے مستحق نہ ہوں گے بلکہ کاروبار کے اختتام اور تصفیہ کے وقت کاروباری منافع ابتداءاً طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم کرنا لازم اور ضروری ہے،لہٰذا سائل کے والدِ مرحوم کی وفات کے بعد سائل کے چچاؤں کا سائل کے اکاؤنٹ سے اپنے حصے سے زیادہ رقم نکال کر اپنے قبضے میں رکھنا شرعاً جائز نہیں،ان پر لازم ہیکہ اپنے حصے کے علاوہ اضافی رقم سائل اور والدِ مرحوم کے دیگر ورثاء کو واپس کرکے مؤاخذہ دنیوی واخروی سے سبکدوشی حاصل کریں۔
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع»):
«وإن كان المالان متساويين فشرطا لأحدهما فضلا على ربح ينظر إن شرطا العمل عليهما جميعا جاز، والربح بينهما على الشرط في قول أصحابنا الثلاثة، …(وأما) عندنا فالربح تارة يستحق بالمال وتارة بالعمل وتارة بالضمان على ما بينا، وسواء عملا جميعا أو عمل أحدهما دون الآخر، فالربح بينهما يكون على»(6/ 62
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام:
المادة :1349: الاستحقاق للربح إنما يكون بالنظر إلى الشرط الذي أورِدَ في عقد الشركة ، وليس بالنظر إلى العمل الذي عُمِل،۔۔۔ويُقسم الربح بينهما على الوجه الذي شرطاه ۔ (ج:3،ص:364)
تبيين الحقائق :
«ولأن الربح يستحق بأحد ثلاثة أمور: بالمال والعمل والضمان…ولأن الحاجة مست إلى اشتراط التفاضل لأن أحدهما قد يكون أهدى وأحذق في التجارة ولا يرضى بالمساواة فوجب القول بجوازه كي لا تتعطل مصالحهم»(3/ 318):
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0