السلام علیکم!
میں اس وقت بےروزگار ہوں اور اپنا حلال کاروبار (Pizza/Restaurant) شروع کرنا چاہتا ہوں۔ میرے پاس اپنا سرمایہ نہیں ہے اور کسی رشتہ دار یا دوست سے قرض/سرمایہ ملنے کی بھی کوئی صورت نہیں بن رہی۔ حکومت کی PM Youth Business & Agriculture Loan Scheme میں Tier-2 کے تحت تقریباً 15 لاکھ روپے کا قرض مل سکتا ہے، لیکن اس پر 5% markup ہے۔ یہ رقم حکومت کی scheme کے تحت ہے اور Bank of Punjab کے ذریعے مل رہی ہے۔ میں نے Islamic/Murabaha option کے بارے میں بھی معلوم کیا لیکن اگر BOP مجھے صرف یہی 5% والا conventional loan دے تو کیا میری اس حالت میں، یعنی بےروزگاری اور حلال روزگار شروع کرنے کی ضرورت کی وجہ سے، شرعاً یہ قرض لینے کی کوئی گنجائش ہے؟ اگر نہیں تو میرے لیے کوئی شرعی متبادل کیا ہو سکتا ہے؟ براہ کرم میری اس مخصوص صورت کے بارے میں فتویٰ عطا فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں حکومت پنجاب کی جانب سے دوسری سطح ( یعنی Tier 2) کا قرض لینے کی سہولت میں سالانہ پانچ فیصد مارک اپ کو قرض لوٹاتے وقت لازم قرار دیا گیا ہے ، اور قرض پر مشروط نفع شرعا سود کے زمرے میں آتا ہے ، اس لیے کنوینشنل بینک سے قرض کی یہ سہولت لینا اگرچہ حلال کاروبا ر کی ابتدا ء کرنے کی غرض سے ہی کیوں نہ ہو ، جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے ، البتہ اگر انتظامیہ کی پالیسی کے تحت اس سہولت کا حصول غیر سودی بینکوں کے ذریعہ بھی ممکن بنا یا گیا ہے، تو سائل کو چاہیئے کہ وہ اس سہولت سےفائدہ اٹھانے کے لیے کسی ایسے مستند غیر سودی بینک سے معاملہ کرلے ، جو باقاعدہ مستند مفتیان کرام کے شریعہ بورڈ کے تحت اپنے معاملات سرانجام دیتا ہو ، تاکہ سود سے محفوظ ہوا جاسکے۔
کما فی الدر المختار: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن اھ
وفی رد المحتار تحت: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه اھ ( مطلب كل قرض جر نفعا حرام ج:5 ص:166 ناشر: حلبی)
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1