کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمیٰ فضل نواب کی ایک بیوہ بیٹی ہے ،جس کی جوان اولاد بیٹے موجود ہیں اور ان کا شوہر مرحوم پولیس ملازم تھا ،تو ان کو ماہانہ پنشن بھی ملتی ہے ،میں خود کباڑ وغیرہ جمع کرتا ہوں پھر فروخت کرکے اپنا گھر چلاتا ہوں ،وہ بیٹی میرے گھر میں رہتی ہے ،میں نے اس کو کہا کہ مجھے اس گھر کا کرایہ دیا کرو تاکہ میرا بھی گزارا ہو میرا ایک معذور بیٹا بھی ہے ،خود بوڑھا ہوں،اور آپ کرایہ نہیں دیتی تو پھر میرا گھر خالی کردو تاکہ میں کسی اور کو کرایہ پر دے کر اپنا گزارہ چلاؤں،لیکن وہ نہیں مانتی ،اور مجھے گالیاں دیتی رہتی ہے ،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ان کا میرے گھر میں زبردستی بغیر کرایہ کے رہنا درست ہے ؟ اور کیا میں ان کو نکالنے کا مجاز ہوں ؟ جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں ۔
اور اب چونکہ میں بقید حیات ہوں تو کیا میری زندگی میں میرا کوئی بیٹا ،بیٹی ،نواسے وغیرہ میری جائیداد میں حصہ داری کا مطالبہ کرسکتے ہیں ؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاہونے سے قبل اپنی تمام مال و جائیداد کا تنہامالک ہوتاہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتاہے،اولادمیں سے کسی بیٹی ،بیٹےیاان کی اولادکااس کی جائیدادپرقبضہ کرنایااس کے کسی تصرف میں رکاوٹ ڈالناجائزنہیں، لہذاصورتِ مسئولہ میں مذکورہ گھر اگر سائل کی ذاتی ملکیت ہو تو بیٹی کا محض بیٹی یا بیوہ ہونے کی وجہ سے اس میں بلااجازت اور بلااجرت زبردستی رہنااورسائل کے مطالبہ کے باوجوداسے خالی نہ کرنااورگالم گلوچ کرناشرعاًجائزنہیں ،جس کی وجہ سے وہ گناہ گارہورہی ہے اس پرلازم ہے کہ اپنے والدکے ساتھ روا رکھے اس مذموم رویہ پربصدق دل توبہ واستغفارکرتے ہوئے معافی مانگےاورجلدازجلدیہ مکان خالی کرکے سائل کے حوالے کردے یامارکیٹ ریٹ کے مطابق اس کاکرایہ مقررکرکے باقاعدہ اس کی ادائیگی کااہتمام کرے ،ورنہ اپنے بوڑھے والدکوتکلیف دینے کی وجہ سے دنیاوآخرت میں رسوائی کاسامناکرناپڑےگا ۔
کمافي «مجلة الأحكام العدلية» : (المادة 1069) مثلما يتصرف صاحب الملك المستقل في ملكه كيفما شاء(ص206،ط : نورمحمد ،کارخانہ تجارت کتب ،کراتشی)
وفي «البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» : لأن حق الورثة إنما يثبت بطريق الخلافة وحكم الخلف لا يثبت مع وجود الأصل والقياس في المال أيضا أن لا يثبت فيه تعلق حق الورثة إلا بعد موت المورث(8/ 361ط دارالکتاب الاسلامی)