السلام علیکم!
جناب محترم مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ ہماری طرف کچھ لوگ مل کر موٹر سائیکل کے لئے کمیٹی ڈالتے ہیں، جس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں وہ تقریباً سو یا دو سو جتنے ہو جائیں ، ممبر اکھٹے کرتے ہیں، جن سے وہ ماہانہ تقریباً دو ہزار روپے لیتے ہیں، اور ہر مہینے قراندازی ہوتی ہے، جس میں جس کا موٹر سائیکل نکل آتا ہے ، اسے موٹر سائیکل دے دیتے ہیں ، اس میں وہ ایڈوانس موٹر سائیکل کی سہولت بھی دیتے ہیں، جس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ممبر 15000 روپے بطور سیکورٹی جمع کراتا ہے، جو اس کی کمیٹی نکلنے پر اسے واپس مل جاتے ہیں ، اور موٹر سائیکل مل جاتا ہے، اگر کسی کا قراندازی میں نہیں نکلتا تو اسے کمیٹی کے ختم ہونے پرایک موٹر سائیکل دیا جائے گا ۔ کمیٹی 26 یا 27 ماہ تک چلتی ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ صورت جائز ہے یا ناجائز ؟ برائے مہربانی جواب سے مطلع فرمائیں۔
ایسی قرعہ اندازی سود اور جوئے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ، اس سے احتراز لازم ہے
قال الله تبارك وتعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدة: 90)۔
و في أحكام القرآن للجصاص: وقال قوم من أهل العلم القمار كله من الميسر (إلی قوله) وحقيقته تمليك المال على المخاطرة وهو أصل في بطلان عقود التمليكات الواقعة على الأخطار اھ (4/ 127)۔