گناہ و ناجائز

نسوار اورسگریٹ کےپینے کاحکم

فتوی نمبر :
10171
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

نسوار اورسگریٹ کےپینے کاحکم

میرا سوال یہ ہے کہ حدیث جس کا مفہوم ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے پھر اس میں نسوار اور سگریٹ شامل کیوں نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

نفسِ نسوار اور سگریٹ نشہ آور نہیں، اس لئے یہ دونوں مباح الاستعمال ہیں، البتہ ان کا استعمال منہ میں رائحۂ کر یہہ کا سبب بنتا ہے، اس لئے ان کا استعمال مناسب نہیں اور اگر ان میں کسی قسم کی نشہ آور چیز کی آمیزش ہو تو پھر اس کے تابع ہو کر اس نشہ آور چیز کے حکم میں ہو جاتے ہیں ، ایسی صورت میں اس نشہ آور شئی کی وجہ سے ان کا استعمال ناجائز و حرام ہو جاتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله فيفهم منه حكم النبات) وهو الإباحة على المختار أو التوقف. وفيه إشارة إلى عدم تسليم إسكاره وتفتيره وإضراره، وإلا لم يصح إدخاله تحت القاعدة المذكورة ولذا أمر بالتنبه اھ (6/ 460)۔
وفيه أيضا: (قوله وأكل نحو ثوم) أي كبصل ونحوه مما له رائحة كريهة للحديث الصحيح في النهي عن قربان آكل الثوم والبصل المسجد اھ (1/ 661)۔
و في تنقيح الفتاوى الحامدية: وبالجملة إن ثبت في هذا الدخان إضرار صرف خال عن المنافع فيجوز الإفتاء بتحريمه وإن لم يثبت انتفاعه فالأصل حله مع أن في الإفتاء بحله دفع الحرج عن المسلمين فإن أكثرهم مبتلون بتناوله مع أن تحليله أيسر من تحريمه وما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أمرين إلا اختار أيسرهما اھ (7/ 426)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 10171کی تصدیق کریں
0     438
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات