گناہ و ناجائز

فوج کے خلاف لڑنے والوں کاحکم

فتوی نمبر :
11922
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

فوج کے خلاف لڑنے والوں کاحکم

جب یہ بات ثابت ہو جائے کہ کسی بھی اسلامی ریاست کی حکمرانی کرنے کا تعلق اسلام کے لئے نہیں ہے، اور حکمران غیر مذہب اور اسلام کے خلاف اور مغربی ذہن والے ہوں جو ایسا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں، جو اسلامی معاشرہ اور اقدار کے خلاف ہو، پھر مسلح جنگ کرنا ایسی ریاست اور اس کے ادارے کے خلاف فوج یا دیگر ادارے جو شریعت کے خلاف ہو ں،اور کافروں کے فائدے میں کام کرتے ہوں, اسلامی اعتبار سے جائز ہے یا نہیں ؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ جو لوگ پاکستانی فوج کے خلاف سوات یا وزیرستان وغیرہ میں لڑ رہے ہیں، اسلام کی خاطر کیا وہ جہادی ہیں یا فسادی؟ اس کے بارے میں اپنا واضح فتوی ذکر کریں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱، ۲): اگرچہ یہ مسائل اور امور مذکورہ انتہائی پریشان کن اور ملّتِ اسلامیہ کے لئے بھی نقصان دہ ہیں، مگر اس کا حل موجودہ سیٹ اَپ کے خلاف مسلح کاروائی اور قتال نہیں، بلکہ سیاستِ اسلامیہ پر عمل پیرا ہو کر اور اپنے قول و فعل میں مطابقت اور اسے موافقِ سنتِ نبوی کرنے اور اپنے ذمہ فرائض و واجبات کی ادائیگی اور منکرات و منہیات سے احتراز کرنے کے ساتھ ساتھ رجوع الی اللہ ہے، جبکہ مزید وضاحت کے لئے دوسرے اہلِ علم سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في سنن النسائي عن كعب بن عجرة قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن تسعة، فقال: «إنه ستكون بعدي أمراء من صدقهم بكذبهم، وأعانهم على ظلمهم، فليس مني ولست منه، وليس بوارد علي الحوض، ومن لم يصدقهم بكذبهم، ولم يعنهم على ظلمهم، فهو مني وأنا منه، وهو وارد علي الحوض» ۔ (7/ 160)۔
و في صحيح البخاري: عن جنادة بن أبي أمية، قال: دخلنا على عبادة بن الصامت، وهو مريض، قلنا: أصلحك الله، حدث بحديث ينفعك الله به، سمعته من النبي صلى الله عليه وسلم، قال: دعانا النبي صلى الله عليه وسلم فبايعناه، 7056 - فقال فيما أخذ علينا: «أن بايعنا على السمع والطاعة، في منشطنا ومكرهنا، وعسرنا ويسرنا وأثرة علينا، وأن لا ننازع الأمر أهله، إلا أن تروا كفرا بواحا، عندكم من الله فيه برهان» (9/ 47)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالواحداسلم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 11922کی تصدیق کریں
0     486
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات