السلام علیکم محترم مفتی صاحب! کیا لائف انشورنس کرانا صحیح ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ مروّجہ انشورنس کمپنیوں کے کاروبار کا بیشتر حصہ ربا و قمار اور غرر پر مشتمل ہوتا ہے، اس لئے ان کی پالیسی لینے اور ان کا حصہ بننے سے احتراز لازم ہے۔
قال الله تعالى : {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ } [المائدة: 90]۔
وقال الله تعالى : {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا } [البقرة: 275]۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0