کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ اہل سنت دیوبند میں کچھ حضرات حضورﷺ کے قبر میں زندگی کا قائل نہیں جو مماتی کہلاتے ہیں کیا یہ لوگ دیوبندی ہیں؟ کیا ان کا عقائد قرآن اور سنت کے مطابق ہیں؟ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیساہے؟
اہلِ سنت والجماعت اور علماء دیوبند کا قرآن وحدیث کی روشنی میں اجماعی عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریمﷺ اور اسی طرح دیگر تمام انبیا کرام علیہم السلام اپنی قبور میں حیات ہیں اور ان کی حیات مثل دنیاوی، بلکہ اس سے بھی اعلیٰ وارفع ہے، مگر بایں ہمہ یہ حیات برزخی ہے اور جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھے وہ اہلِ سنت والجماعت سے خارج اور بدعتی ہے، جس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
ففی سنن ابن ماجه: عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (إلی قوله) « إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء، فنبي الله حي يرزق» اھ(1/ 524)
وفی صحيح مسلم: عن سليمان التيمي، سمعت أنسا، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مررت على موسى وهو يصلي في قبره» (4/ 1845)
وفی تکملة فتح الملهم: وبالجملة فان هذه الاحادیث مع حدیث الباب تدل علی کون الأنبیاء احیاء بعد وفاتھم وھو من عقائد جمهور اهل السنة والجماعة اھ(۵/۳۰)
وفی التنویر: ویکره امامة عبد واعرابی وفاسق وأعمی إلا أن یکون اعلم القوم ومبتدع لایکفر بها الخ (۱/۵۵۹) واللہ أعلم بالصواب!
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0