السلام علیکم! اگر کوئی مسلمان نبی ﷺ کے کسی عمل پر تنقید کرتا ہے مثال کے طور پر نوجوان بنی قریظہ کے یہودیوں کا قتل، تاہم جلد ہی وہ اپنی غلطی کا احساس کرتا ہے اور اپنی بات پر شرمندہ ہوتا ہے، کیا وہ اپنے کہے سے توبہ کرسکتا ہے؟ کیا اس کی توبہ قابل قبول ہے؟ کیا وہ توبہ کرسکتا ہے اور ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنی زندگی گزار سکتا ہے؟ یا اسے معاف کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے اور وہ کافر مرجائے گا چاہے وہ توبہ کرے؟ وہ نبی سے محبت کرتا ہے اور اسلام سے محبت کرتا ہے؟ وہ مسلمان ہونا چاہتا ہے کیا کوئی موقع ہے کہ وہ اپنے الفاظ سے توبہ کرنے کے بعد مسلمان ہو؟
سائل نے واضح نہیں کیا کہ صورتِ مسئولہ میں کن الفاظ سے تنقید کی گئی، تاکہ اس کے مطابق حکم لگایا جاتا، تاہم اگر کوئی شخص آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے یا آپ ﷺ کے کسی قول و عمل پر استخفافاً تنقید کرے تو وہ شخص بلاشبہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے گا اور اس کا نکاح بھی ختم ہوجائے گا، البتہ اگر وہ اپنے کئے پر نادم اور شرمندہ ہوکر دوبارہ اسلام قبول کرنا چاہے تو بلاشبہ وہ اسلام قبول کرسکتا ہے اور اس کی توبہ عند اللہ مقبول ہوگی۔
لما فی التنزیل العزیز: ﴿ان اللہ لا یغفر أن یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء﴾ [النساء: ٤٨]
وفیہ ایضًا: ﴿إن اللہ یغفر الذنوب جمیعا إنہ ھو الغفور الرحیم﴾ [الزمر: ٥٣]
وفی سنن ابن ماجہ: عن عبد اللہ بن عمر، عن النبی ﷺ قال: ’’إن اللہ عزوجل لیقبل توبۃ العبد، ما لم یغرغر‘‘۔ (ج٢، ص١٤٢٠)
وفی رد المحتار: ورأیت فی کتاب الخراج لأبی یوسف ما نصہ: وأیما رجل مسلم سب رسول اللہ ﷺ أو کذبہ أو عابہ أو تنقصہ فقد کفر باللہ تعالی وبانت منہ امرأتہ، فإن تاب وإلا قتل۔ (ج٤، ص٢٣٤) واللہ اعلم بالصواب
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0