میں یقین کرتا ہوں کہ 12ربیع الاول کو آنحضرت ﷺپیدا ہوئے ،اس دن کو لوگ بڑے جوش وجذبہ سے عید کی طرح مناتے ہیں ، اور میں اس کو اچھا نہیں سمجھتا ۔مفتی صاحب آپ رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ بدعت ہے یا شریعت کے مطابق ہے ؟
اولاً تو حضورعلیہ السلام کی ولادت مبارکہ میں اختلاف ہے ،بعض حضرات نے 2،بعض نے ۸ربیع الاول،بعض نے 9،اور بعض نے 12ربیع الاول کا قول نقل کیا ہے اس لیے بارہ (12)ربیع الاول ہی کو یہ دن منانا قرین قیاس نہیں، پھر اگر یہ کوئی کار خیر ہوتا تو خود نبی کریم ﷺ صحابہ کرام تابعین وتبع تابعین رحمہم اللہ جو امور خیر میں انتہائی حریص تھے وہ کبھی بھی اس کام میں پیچھے نہ رہتے ۔ حالانکہ نبوت ملنے کے 23سال بعد تک خود آپؐ حیات رہے، مگر نہ تو آپ علیہ السلام نے اس دن کو منایانہ خلفاءراشدین کے دور میں کبھی منایا گیا اور نہ ہی تابعین وتبع تابعین کے دور میں کبھی منایا گیا، پھر ایسا کا م جیسے خیرالقرون میں باوجود فرصت کے نہ کیا گیا ہو اس کو باعث ثواب سمجھ کر کرنا بلاشبہ بدعت ہے، جس پر احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ جبکہ مذکور فعل میں قطع نظر بدعت ہونے کے ایسے امور کا ارتکاب کیا جاتا ہے جو شرعاً جائز نہیں، اس لیے یہ فعل واجب الترک ہے ۔
ففی سنن ابن ماجه : عن عبد الله بن مسعود، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إنما هما اثنتان، الكلام والهدي، فأحسن الكلام كلام الله، وأحسن الهدي هدي محمد، ألا وإياكم ومحدثات الأمور، فإن شر الأمور محدثاتها، وكل محدثة بدعة، وكل بدعة ضلالة اھ(1/ 18)
وفی مشکاۃ المصابیح: عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم من أحدث فی أمرنا ھذا مالیس منہ فھو رد متفق علیہ۔(ج1ص27) واللہ أعلم!
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0