انبیاء علیہم السلام کی تعداد کے بارے میں کہا جاتا ہے ایک لاکھ چوبیس ہزار کم وبیش، کیا انبیاء کی تعداد حتمی طور پر متعین نہیں ہے؟
انبیاء علیہم السلام کی تعداد اگر عنداللہ متعین ہے لیکن ہمارے سامنے ان کی تعداد کے متعلق حتمی روایت نہیں، بلکہ اس سلسلہ میں روایات مختلف ہیں، اس لۓ مذکور جملے بول دیئے جاتے ہیں جو تمام روایات پر مشتمل ہیں۔
فی شرح العقائد: وقد روی بیان عددهم فی بعض الأحادیث علی ما روی النبی علیه السلام سئل عن عدد الأنبیاء فقال مائة الف وأربعة وعشرون الفا اھ (ص:۱۳۹)۔
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0