میرا مفتیان کرام سے سوال یہ ہے کہ کیا اس زمانے میں جتنے مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ ہیں، عیسائی، یہودی، ہندو، سب کو ہم لوگ حضور پاکﷺ کا امتی کہہ سکتے ہیں؟ یا کیا وہ مسلمانوں کی طرح حضور کی امت میں شامل ہیں؟ مہربانی کرکے جواب ارشاد فرمائیں۔
تمام انسان چاہے وہ عیسائی ہوں یا یہودی اور ہندو وغیرہ، ان تمام کی طرف نبی کریمﷺ کو مبعوث کیا گیا، اس لیے وہ تمام آپ کے امتی ہیں، مگر جو آپ پر ایمان لائے، وہ مسلمان اور امت مسلمہ و امت اجابت کہلاتے ہیں اور جو ایمان نہیں لائے، وہ امت دعوت اور کافرکہلاتے ہیں۔
ففي فیض القدیر: <تنبيه> الأمة جمع لهم جامع من دين، أو زمان، أو مكان، أو غير ذلك فإنه مجمل يطلق تارة ويراد بها كل من كان مبعوثا إليهم، نبي آمنوا به أو لم يؤمنوا ويسمون أمة الدعوة، وأخرى ويراد بهم المؤمنون به المذعنون له وهم أمة الإجابة وہذا المراد ہنا۔ اھـ (ج۲، ص۱۴۷۰) واللہ أعلم بالصواب!
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0