السلام علیکم! ان دنوں ہمارے گاؤں میں حیاۃ النبی ﷺ کے موضوع پر مناظرہ ہورہا ہے ایک فریق کا موقف ہے کہ آپ ﷺ اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں دنیاوی زندگی کی طرح، اور دوسرے فریق کا موقف یہ ہے کہ وہ زندہ ہے، لیکن اس کی کیفیت اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے اس کی خبر نہیں ہوسکتی، براہِ کرم اس موضوع میں ہماری مدد فرمائیں۔
اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے روضۂ اطہر میں حیات ہیں اور آپ کی یہ حیات مثلِ دنیاوی حیات، بلکہ اس سے بھی اعلیٰ وارفع ہے، یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی نہ میراث تقسیم ہوتی ہے، نہ ان کی ازواجِ مطہرات سے بعد میں کوئی نکاح کرسکتا ہے، اس لیے حدیث مبارکہ کی رو سے جو شخص روضہ اطہر کے پاس آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود پڑھتا ہے تو آپ علیہ السلام اس کو خود سنتے ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں اور جو شخص دور سے درود پڑھتا ہے تو اللہ رب العزت فرشتوں کے ذریعے آپ ﷺ تک پہنچاتے ہیں، مگر بایں ہمہ یہ حیاتِ برزخی ہے جبکہ یہ مسئلہ محض علمی ہے، عوام میں اس قسم کے مسائل بیان کرنے اور اس پر مناظرے کرنے سے احتراز لازم ہے۔
وفی صحیح المسلم: عن أنس بن مالكؓ أن رسول اللہ ﷺ قال أتیت وفی رواية هداب مررت علٰی موسٰی لیلة أسری بی عند الکثیب الأحمر وهو قائم یصلی فی قبرہ۔ الحدیث (۶/۱۴۷)
وأخرجه ابو یعلی فی مسنده: عن أنس بن مالكؓ أن رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم قال: الأنبیاء أحیاء فی قبورهم یصلون الحدیث (۶/۱۴۷)
قال الحافظ بن حجرؒ بعد سرد الأحادیث فی حیات الأنبیاء: قلت واذا ثبت أنهم أحیاء من حیث النقل فانه یقویه من حیث النظر کون الشهداء احیاء بنص القرآن والأنبیاء افضل من الشهداء۔ اھـ (ج۶، ص۳۸۸)
قال العلامة عثمانیؒ بعد سرد الأحادیث فی حیاۃ الأنبیاء: ومن شواهد الحدیث ایضًا ما اخرجه ابو داود من حدیث ابی ہریرة رفعه وقال فیه وصلو علیّ فإن صلوتکم تبلغنی حیث کنتم (سندہ صحیح واخرجه ابو الشیخ فی کتاب الثواب پسند یسند جید ’’من صلی علیّ عند قبری سمعته، ومن صلی علّی نائیا بلغته‘‘ وعند أب ی داؤد والنسائی، وصححه ابن خزیمه وغیرہ، عن اوس بن اوس رفعه فی فضل یوم الجمعة ’’فأکثروا فیه علیّ من الصّلاة، فإن صلاتکم معروفضة علیّ، قالوا: یا رسول اللہ، وکیف تعرض صلاتنا علیك وقدر ارضت؟ قال: إن اللہ حرم اللہ علی الأرض ان تأکل أجساد الأنبیاء‘‘۔ (فتح الملهم: ۲/۲۸۸)
وفی شفاء السقام للسبکیؒ: وهی ثابته للروح بلا اشکال والجسد قد ثبت أن أجساد الأنبیاء لا تبلی (الی قوله) فإن الصلاۃ تستدعی جسدًا حیًّا وکذالك الصفات المذکورۃ فی الأنبیاء لیلة الإسراء کلها صفات الأجسام ولا یلزم من کونها حیاة حقیقية أن تکون الأبدان معهما کما کانت فی الدنیا من الإحتیاج إلی الطعام والشراب والامتناع عن النفوذ فی الحجاب الکثیف وغیر ذالك من صفات الأجسام التی نشاهدها بل قد یکون لها حکم اٰخر، فلیس فی العقل ما یمنع من إثبات الحیوۃ الحقیقية لهم۔ اھـ (ص۱۹۱)
وفی الحاوي للفتاوي: حياة النبي صلى الله عليه وسلم في قبره هو وسائر الأنبياء معلومة عندنا علما قطعيا لما قام عندنا من الأدلة في ذلك وتواترت [به] الأخبار، وقد ألف البيهقي جزءا في حياة الأنبياء في قبورهم (2/ 178)
وفیه ایضًا: وقال القرطبیؒ فی التذکرۃ (الی قوله) وهذه صفة الأحياء في الدنيا، وإذا كان هذا في الشهداء فالأنبياء أحق بذلك وأولى، وقد صح أن الأرض لا تأكل أجساد الأنبياء (2/ 180)
وفیه ایضًا: قال البيهقي في كتاب الاعتقاد: الأنبياء بعد ما قبضوا ردت إليهم أرواحهم فهم أحياء عند ربهم كالشهداء اھ(2/ 311) واللہ اعلم بالصواب!
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0