جناب عرض یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ یہ کہے کہ اللہ کے نبیﷺ کو نبوت چالیس سال کے بعد ملی تو اس کے بارے میں شرعی حکم کیاہے؟ جبکہ میری معلومات کے مطابق حدیث پاک ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ میں اس وقت بھی نبی تھا جب حضرت آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے۔ شرعی حکم واضح فرمادیں۔ جزاک اللہ!
واضح ہوکہ نبی کریمﷺ کا ارشاد گرامی اپنی جگہ پر حق وسچ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ہی آپﷺ کو نبی بناکر مبعوث کرنا طے کرلیا تھا، چنانچہ جب انکی عمر مبارک چالیس سال ہوئی تو ان کو باضابطہ نبوت دے کر دنیا کے سامنے لے آئے، اس کے بعد آپﷺ کے پاس حضرت جبریلؑ نے وحی کے ذریعہ مختلف احکامات لانے کا سلسلہ بھی شروع کرلیا، چنانچہ اس بناء پر یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ آپ علیہ السلام کو چالیس سالی کی عمر میں نبوت ملی۔
في سنن الترمذي: عن أبي هريرة، قال: قالوا يا رسول الله متى وجبت لك النبوة؟ قال: ’’وآدم بين الروح والجسد‘‘ اھـ
وفي العرف الشذي شرح سنن الترمذي:تحت قوله: (متى وجبت لك النبوة؟ قال: وآدم بين الروح والجسد إلخ) أي كان النبي (ص) نبياً وجرت عليه أحكام النبوة من ذلك الحين، بخلاف الأنبياء السابقين، فإن الأحكام جرت عليهم بعد البعثة كما قال مولانا الجامي أنه كان نبياً قبل النشأة العنصرية اھـ (۲/۲۰۳)۔
وفي الترمذي: عن عباس قال: ٲنزل علی رسول اللہ ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ وھو ابن ٲربعین فٲقامه بمکة ثلاثة عشر و بالمدینة عشر وتوفي وھو ابن ثلاث وستین، ھذا حدیث حسن صحیح اھـ (۲/۲۰۳)۔
وفي مشکاۃ المصابیح: عن ابن عباس ۔ رضي اللہ عنه ۔ قال: بعث رسول اللہ ۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ لأربعین سنة اھـ (۲/۵۳۰)۔واللہ أعلم بالصواب!
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0