السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ!
مفتی صاحب! میرا سوال ہے کہ وحی اور حدیث میں کیا فرق ہے؟ جہاں تک مجھے پتہ ہے کہ وحی وہ ہے جو قرآن میں آگیا اور حدیث وہ ہے جو ہمارے نبیﷺ نے فرمایا تو ایک موقع پر ہمارے نبی نے منبر پر کھڑے ہوکر فرمایا تھا کہ پوچھو قیامت کی آنے والی نشانیوں کے بارے میں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے نبی کو غیب کا علم تھا، اگر میں غلط ہوں تو براہ مہربانی وضاحت کردیں۔ شکریہ!
حدیث بھی وحی کی ایک قسم ہے جسے عند المحدثین والفقہاء وحی غیر متلو کہتے ہیں جبکہ قرآن پاک وحی متلو کہلاتا ہے لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ عالم الغیب نہیں، آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی فرشتے وغیرہ کے ذریعے جتنا بتایا جاتا اتنے کے آپ عالم تھے اور اسی کی اپنیامت کو بھی تعلیم دی ہے جبکہ علم غیب وہ کہلاتا ہے جو بغیر واسطے کے حاصل ہو جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاصل ہے اس لیے آنحضرت ﷺ کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ آپ عالمِ الغیب ہیں شرکیہ عقیدہ ہے اس سے توبہ اور اجتناب لازم ہے۔
في تفسیر روح المعاني: وتعقبه صاحب الكشف بأنه غير قادح لأنه بمنزلة أن يقول الله تعالى لنبيه عليه الصلاة والسلام: متى ما ظننت بكذا فهو حكمي أي كل ما ألقيته في قلبك فهو مرادي فيكون وحيا حقيقة (ٳلی قولہ) ولا يبعد عندي أن يحمل قوله تعالى: وما ينطق عن الهوى على العموم اھ (۲۷/۴۶)۔
وقال اللہ تعالی: قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ۔ (النمل:۶۵) واللہ أعلم بالصواب!
آپ علیہ السلام نور ہیں یا بشر؟ اور کیاآپ علیہ السلام اللہ کے نور سے پیدا شدہ ہیں؟
یونیکوڈ رسالت و نبوت 0