کوئی بندہ رات کو سوتے ہوئے کوئی برے خیالات کے بارے میں سوچے، جیسا کہ میں کسی کو ماردوں گا یا کسی کے پیسے چوری کروں گا یا زنا کا خیال آئے اور اس کو خیالوں میں کرتے ہوئے دیکھے تو کیا اس کو گناہ ملے گا؟ کیونکہ میں نے پڑھا تھا کہ فرشتے اس وقت تک کچھ نہیں لکھتے جب تک مسلمان وہ برا کام کر نہ لے، جبکہ نیکی کا سوچے بھی تو وہ کرنےسے پہلے لکھ دیتے ہیں۔
محض اس قسم کے خیالات کا آنا موجبِ مواخذہ نہیں، البتہ قصداً ایسے منصوبے بنانا باعثِ گناہ ہے۔
ففی المرقاة: المذهب الصحیح المختار الذی علیه الجمہور ان افعال القلوب اذا استقرت یواخذ بها، فقوله صلی اللہ علیه وسلم ((ان اللہ تجاوز عن امتی ما وسوست به صدورها)) معفو علی ما اذا لم تستقر وذلك معفو بلا شك اھ۔ (ج1، ص238) واللہ اعلم بالصواب!