محترم مولانا صاحب! مہربانی فرما کر آپ مجھے میرے سوالات کاجواب دیں گے؟ اسلام میں پیر اور مرید کا کیا نظریہ ہے، کیا یہ ثابت ہے ؟ اور کیا یہ ضروری ہے کہ ہر انسان کسی نہ کسی پیر سے بیعت کریں اصلاح کے لیے ؟ براہِ مہربانی اس کے بارے میں مجھے تفصیلاً جواب دیں، جو میرے لیے راہ نمائی کا ذریعہ بن سکے۔
اصل مقصود اصلاح نفس ہے، اور اس مقصد کے لیے پیری و مریدی جس کو بیعت سے تعبیر کیا جاتا ہے کا سلسلہ قائم کیا جاتا ہے، جو ثابت اور سلف صالحین سے متوارث ہے، مگر شرعا ضروری نہیں ،بلکہ اصلاح نفس کا یہ مقصد اگر کسی اور ذریعہ سے حاصل ہو تب بھی درست ہے۔