گناہ و ناجائز

کمپنی کا ملازم کی تنخواہ سے ایک ہزار روپیہ فنڈ کے نام پرکاٹ لینا

فتوی نمبر :
14638
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کمپنی کا ملازم کی تنخواہ سے ایک ہزار روپیہ فنڈ کے نام پرکاٹ لینا

بھائی میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں ہر مہینہ ہماری تنخواہ سے ایک ہزار روپیہ کمپنی کاٹ لیتی ہے جو کہ فنڈ کہلاتا ہے، جب ہم ریٹائر ہوتے ہیں تو ہماری پوری سروس میں جو پیسہ جمع ہوا ہوتا ہے فنڈ کا، جیسے میرے پیسے جمع ہوئے 2 لاکھ تو کمپنی ہمیں ۴ لاکھ دیتی ہے ۔ میں نے یہ پوچھنا ہے کہ کیا یہ پیسہ سود کہلاتا ہے ؟ سود تو حرام ہے اور یہ صرف ہماری کمپنی کی بات نہیں بلکہ ہر سرکاری ادارے میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ برائے مہربانی جلد از جلد جواب دیں۔ اور ہمارا پورا کا پورا فنڈ ایک نجی بینک میں جمع ہوتا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

متعلقہ کمپنی میں اگر اس کے لیے رقم کی کٹوتی ضابطہ کے درجہ میں لازم ہو، اور ملازم کا اس میں کوئی اختیار نہ ہو بلکہ جبراً یہ رقم ملازم کی تنخواہ سے کاٹی جاتی ہو تو اس صورت میں ملازم کے لیے یہ فنڈ لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الفتاوى الهندية: ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها كذا في شرح الطحاوي اھ (4/ 413)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
منظور الہی نور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 14638کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات