میں آپ کو ایک انشورنس کا مسئلہ سینڈ کر رہا ہوں ،اس میں دس ہزار سالانہ سے لے کر 25 ہزار سالانہ دینا ہے، جو کہ 10سے 25سال تک دینا ہوگا، یہ پروپوزل جوکہ میں نے اپنے لیے داؤد تکافل کمپنی سے منگوایا تھا، ساری تفصیل اس میں موجود ہے،مجھے یہ کہا گیا ہے کہ یہ ایک اسلامک انشورنس کا طریقہ ہے، جس کو کوئی نامور مفتی صاحب چلا رہا ہے، مجھے آپ سے راہ نمائی چاہیئے کہ یہ میں اپنے لئے لے سکتا ہوں کیا یہ حلال طریقہ ہے؟
واضح ہو کہ تکافل کاموجودہ طریقہ کار بنیادی طور پر انشورنس کا جائز اور ا سلامی متبادل ہے، جس میں تعاونِ باہمی اور عقد ِشرع ملحوظ ہوتا ہے۔ اور اسی بنیاد پر پاک قطر فیملی تکافل اور داؤد فیملی تکافل کمپنیوں سے متعلق ہمارے یہاں سے ان میں پالیسی لینے کے جواز کے بارے میں ایک مختصراً فتوی بھی جاری کیا گیا،مگر بعد میں متنبہ ہونے پر دونوں کمپنیوں کے طریقہ کار سے متعلق وضاحت طلب کی گئی تو پاک قطر فیملی تکافل کمپنی نے اپنا پورا طریقہ کار بیان کر دیا ،جس سے متعلق دار الافتاء جامعہ بنوریہ سے اس کے جواز پر تفصیلی فتوی بھی دیا گیا، مگر داؤد فیملی تکافل کمپنی کی طرف سے اپنے طریقہ کار کی وضاحت پیش نہیں کی گئی۔ اسی بناء پر ہم نے اپنے سابقہ فتوی نمبر7836 سے رجوع کر کے یہ بیان دیدیا کہ اگر کمپنی اپنے طریقہ کار کی مکمل وضاحت کر دے تو اس کے بعد ہی اس کے ساتھ کام کے جواز یا عدمِ جوازہسے متعلق حکمِ شرعی بھی بیان کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے جب ہمیں یہ وضاحت حاصل ہو جائے گی تو اس کا باقاعدہ اعلان بھی کر دیا جائے ۔گا ۔ فی الحال داؤد فیملی تکافل کی پالیسی لینے سے احتراز ہی بہتر ہے۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0