میں بین الاقوامی آرگنائزیشن میں 1991 ء سے کام کر رہا ہوں، جب میں نے کام شروع کیا ،تو مجھے لائف انشورنس پالیسی ملی، جو میرے مرنے کے بعد میرے گھر والوں کو ادا کر دیا جائیگا، اور وہ ماہانہ میری تنخواہ سے کٹوتی کرتے ہیں ۔
(۱): کیا آخرت میں اس کا سوال ہوگا مجھ سے ؟
(۲):کیا میں اس کو ختم کر دوں ؟
اگر میں ختم کروں تو جمع شدہ رقم واپس نہیں ہوگی؟
(۳): یہ پالیسی حرام ہے یا حلال ؟
اس طرح کی لائف انشورنس پالیسی لینا شرعاً جائز نہیں، اس لئے سائل کو چاہئیے کہ اس پالیسی کو ختم کر دے ،اور ابھی تک اس پالیسی کے تحت پریمیم کی صورت میں جتنی رقم جمع کر وائی ہے، وہ واپس لے لے ،اور اگر انشورنس کروانا قانو نا لازمی ہو ،اور پہلے رقم نکلوانے میں نقصان کا اندیشہ ہو تو پالیسی کی مدت ختم ہونے کا بھی انتظار کیا جاسکتا ہے، پھر اگر اس قسم کی پالیسی لینا ضروری ہو تو پاک قطر فیملی تکافل کمپنی سے رابطہ کر کے تکافل کی پالیسی لے، جو کہ انشورنس پالیسی کا متبادل اسلامی اور جائز نعم البدل ہے۔
قال الله تعالى :- { وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا } [البقرة: 275]۔
و في حاشية ابن عابدين: والذي يظهر لي: أنه لا يحل للتاجر أخذ بدل الهالك من ماله لأن هذا التزام ما لا يلزم اھ (4/ 170)-
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0