گناہ و ناجائز

اسمگلنگ کرنے کاحکم

فتوی نمبر :
16353
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

اسمگلنگ کرنے کاحکم

مفتی صاحب !
میں پلاسٹک دانہ ایران سے لاتا ہوں، اس کو اسمگلنگ کے ذریعہ بیچتا ہوں، اس میں ہمارے کو زیادہ بچت ہوتی ہے، اور اگر کسٹم کلیئر کریں، تو ہمارے کو بہت کم بچت ہوتی ہے، کیونکہ ہمارے ساتھ اور لوگ بھی یہ پلاسٹک دانہ لا رہےہیں؟براہِ کرم حکم ِشرعی سے آگاہ کریں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اسمگلنگ کرنا قانون کی خلاف ورزی، ملکی معیشت کو نقصان اور عزت کو خطرہ میں ڈالنے کے مترادف ہے، اس لئے مذکورہ طرز ِعمل سے احتراز اور جائز طریقۂ کا روبار اختیار کرنا لازم ہے، جس کے ذریعہ نہ تو قانون شکنی لازم آئے اور نہ ہی وہ شرعاً نا جائز و حرام ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في البحوث: كل من يسكن فی دولة فانه يلتزم قولاً أو عملاً بأنه يتبع قوانينها وحینئذ یجب علیه إتباع أحکا مها اھ (ص: ۱۶۶)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد زبیر ظریف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 16353کی تصدیق کریں
0     609
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات