گناہ و ناجائز

ورزش کی غر ض سے "یوگا"سیکھنے اور اپنانے کاحکم

فتوی نمبر :
17750
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ورزش کی غر ض سے "یوگا"سیکھنے اور اپنانے کاحکم

میرا سوال ’’یوگا“ کے متعلق ہے اگر ایک شخص یوگا سیکھے اور محض فٹنس کے لیے ورزش کے طور پر کرے تو یہ درست ہے؟ یا اس کا تعلق ہندوں کے ساتھ ہونے کی وجہ سے اس کو اختیار نہ کرے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اپنا وزن کم کرنے یا صحت برقرار رکھنے کے پیش نظر جسمانی ورزش مقصود ہو تو اس میں ’’یوگا‘‘ کا اعتبار یا اس کے طریقہ کار کا لحاظ رکھنے کی کیا ضرورت ہے ، اس کے لیے تو کئی ایک ایکسر سائز معروف ہیں ، اس مقصد کے لیے باقاعدہ کئی ایک سنٹر بھی قائم کیے گئے ہیں، وہاں جا کر اپنی مطلوبہ ورزش کی جا سکتی ہے۔ جبکہ ہندو قوم اپنے جسمانی یوگا میں بھی دوران ورزش اپنا سانس اور دل کی دھڑکن تک کو بند کرنے کی کوشش اور اس دوران اپنے معبود " بھگوان" کا تصور لاتے ہیں ، اس بناء پر اس سے منع کیا گیا ہے ، محض جسمانی ورزش منع نہیں ہے ، ہاں ! اگر اس دوران کسی قسم کے غیر شرعی امر کا ارتکاب کرنا پڑتا ہو تو پھر اس ممنوع امر سے احتراز لازم ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي مشكاة المصابيح: وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من تشبه بقوم فهو منهم» . رواه أحمد وأبو داود اھ (2/ 1246)
و في الدر المختار: والمصارعة ليست ببدعة إلا للتلهي اھ (6/ 404)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): وأما إشالة الحجر باليد وما بعده، فالظاهر أنه إن قصد به التمرن والتقوي على الشجاعة لا بأس به اھ (6/ 404) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 17750کی تصدیق کریں
0     10
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات