السلام علیکم! کیا انشورنس جائز ہے؟ اور کیا مفتی تقی عثمانی صاحب نے اس طرح کا کوئی ادارہ کھولا ہے؟ براہ کرم جامع جواب ارسال فرمائیں ۔
مروجہ انشورنس کمپنیوں کا کاروبار اور ان کے طریقہ کار میں ربا، قمار اور غرر پایا جاتا ہے، اس لئے از خود ان کی کوئی پالیسی خواہ وہ صحت سے متعلق ہو یا زندگی وغیرہ سے اس کا لینا شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز واجب ہے۔
جبکہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکا تہم ایسا کوئی ادارہ نہیں کھولا، البتہ انشورنس کے متبادل کے طور پر کچھ تکافل کمپنیاں ایسی ہیں جن کا طریقہ کار شرعی ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0