میرے دماغ میں ہر وقت برے خیالات آتے رہتےہیں۔ میں نے تقریباً چار مرتبہ اپنے آپ کو زنا میں مبتلا ہونے سے بچایا ، حالانکہ لڑکی از خود مجھے زنا کی دعوت دے رہی تھی اور میں فحاشی میں بھی مبتلا تھا، ایک بڑی مشکل اور بھی ہے ۔ وہ یہ کہ میری یادداشت کمزور ہوتی جا رہی ہے اور کام میں بھی دل نہیں لگتا ہے ، میں ان عادات کو ترک کرنا چاہتا ہوں ، مگر پھر کچھ عرصہ چھوڑنے کے بعد میں دوبارہ ان میں مبتلا ہو جاتا ہوں، براہِ مہربانی میری اس خطرے سے باہر نکلنے میں مدد کریں ،میں حافظِ قرآن بھی ہوں۔
مذکورہ وساوس اور خیالات کا بنیادی سبب سائل کی اپنی یہ گناہ والی زندگی اور برے ساتھیوں کی ہم نشینی ہے ۔ جس سے فوری طور پر علیحدگی کی ضرورت ہے۔ اگر وہ نیک وصلحاء لوگوں کی صحبت اختیار کرے اور کسی متبع شریعت شیخ کامل اور نیک و صالح متقی پرہیز گار شخصیت کے ہاتھ بیعت بھی ہو جائے اور اس کے بتائے ہوئے وظائف اور دیگر امور میں ان کے ساتھ مشورہ کر کے چلے تو ان شاء الله امید ہے کہ وہ بہت جلد اس بیماری سے نجات پاکر اپنے حافظہ اور یاداشت کو بھی مضبوط بنا لیگا۔
کما في مشكاة المصابيح: وعن أبي موسى قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «مثل الجليس الصالح والسوء كحامل المسك ونافخ الكير فحامل المسك إما أن يحذيك وإما أن تبتاع منه وإما أن تجد منه ريحا طيبة ونافخ الكير إما أن يحرق ثيابك وإما أن تجد منه ريحا خبيثة». متفق عليه اھ (3/ 1395)-
وفي مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: والمعنى فعليك بمحبة الأول ومصاحبته، وإياك ومودة الثاني ومرافقته. قيل: فيه إرشاد إلى الرغبة في صحبة الصلحاء والعلماء ومجالستهم ; فإنها تنفع في الدنيا والآخرة، وإلى الاجتناب عن صحبة الأشرار والفساق ; فإنها تضر دينا ودنيا. قيل: مصاحبة الأخيار تورث الخير ومصاحبة الأشرار تورث الشر كالريح إذا هبت على الطيب عبقت طيبا، وإن مرت على النتن حملت نتنا. وقيل: إذا جالست الحمقى علق بك من حماقتهم ما لا يعلق لك من العقل إذا جالست العقلاء ; لأن الفساد أسرع إلى الناس وأشد اقتحام ما في الطبائع، والحاصل أن الصحبة تؤثر، ولذا قال تعالى: {ياأيها الذين آمنوا اتقوا الله وكونوا مع الصادقين} [التوبة: 119] ، وقال بعض العارفين: كونوا مع الله، فإن لم تقدروا أن تكونوا مع الله، فكونوا مع من يكون مع الله اھ(8/ 3136)۔