میں اولاد میں مناسب وقفہ کرنا چاہتا ہوں ، میری بیوی چھ ہفتے سے حاملہ ہے، کیا میں آپریشن کروا سکتا ہوں ؟میری بیوی بھی متفق ہے ۔ میرا ایک بیٹا ، ایک بیٹی ہے، کیا یہ قتل کے زمرے میں تو نہیں آتا ہے؟
چھ ہفتوں کے حمل کو گرانے سے اگر چہ قتل کا گناہ نہ ہوگا مگر محض مناسب وقفہ کرنے کی وجہ سے اس حمل کا گرانا نہیں چاہیے ۔
ففي التفسير المظهري: تحت قوله تعالیٰ ﴿وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ﴾ الواد كبيرة لانه قتل النفس بغير حق و في حكمه إسقاط الحمل بعد اربعة أشهر لتمام خلقة الجنين ونفخ الروح فى تلك المدة اھ (10/ 206)
و في حاشية ابن عابدين: (قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما (إلی قوله) قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه اھ (3/ 176)