گناہ و ناجائز

مناسب وقفہ کی خاطر اسقاط حمل کا حکم؟

فتوی نمبر :
18168
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مناسب وقفہ کی خاطر اسقاط حمل کا حکم؟

میں اولاد میں مناسب وقفہ کرنا چاہتا ہوں ، میری بیوی چھ ہفتے سے حاملہ ہے، کیا میں آپریشن کروا سکتا ہوں ؟میری بیوی بھی متفق ہے ۔ میرا ایک بیٹا ، ایک بیٹی ہے، کیا یہ قتل کے زمرے میں تو نہیں آتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

چھ ہفتوں کے حمل کو گرانے سے اگر چہ قتل کا گناہ نہ ہوگا مگر محض مناسب وقفہ کرنے کی وجہ سے اس حمل کا گرانا نہیں چاہیے ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي التفسير المظهري: تحت قوله تعالیٰ ﴿وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ﴾ الواد كبيرة لانه قتل النفس بغير حق و في حكمه إسقاط الحمل بعد اربعة أشهر لتمام خلقة الجنين ونفخ الروح فى تلك المدة اھ (10/ 206)
و في حاشية ابن عابدين: (قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما (إلی قوله) قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه اھ (3/ 176)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 18168کی تصدیق کریں
0     49
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات