میں لندن میں رہتا ہوں، میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا میں اپنے بالوں اور داڑھی پر کالا خضاب لگا سکتا ہوں ؟ میں 26 سال کا ہوں ۔ میں ابھی حضاب کے استعمال کے متعلق تشویش میں ہوں، کیونکہ میں خضاب استعمال کرتا ہوں ۔ کراچی کے بعض علماء نے مجھے بتایا کہ چالیس سال سے پہلے بندہ حضاب لگا سکتا ہے۔ میں نے دنیا نیوز پر پڑھا کہ علماءِ ہند کا اس پر اتفاق ہے کہ مرد کالا خضاب استعمال نہیں کر سکتا ۔ حوالہ کے لیے اس لنک کو آپ دیکھ سکتے ہیں۔
جی ہاں! مرد کے لیے عام حالات میں کالا خضاب کا استعمال درست نہیں، اس کے علاوہ دوسرے رنگوں کے خضاب یا مہندی استعمال کر سکتا ہے اور سائل کے لئے بھی یہی بہتر ہے کہ وہ بجائے خالص سیاہ خضاب استعمال کرنے کےبجائے کسی دوسرے رنگ مثلاً سنہری یا براؤن وغیرہ کا استعمال کرے، جس میں کوئی کراہت نہیں۔
ففي حاشية ابن عابدين: (قوله جائز في الاصح) (إلی قوله) ومذهبنا أن الصبغ بالحناء والوسمة حسن كما في الخانية قال النووي: ومذهبنا استحباب خضاب الشيب للرجل والمرأة بصفرة أو حمرة وتحريم خضابه بالسواد على الأصح لقوله - عليه الصلاة والسلام - «غيروا هذا الشيب واجتنبوا السواد» اهـ (6/ 756)
وفي الفتاوى الهندية: وعن الإمام أن الخضاب حسن لكن بالحناء والكتم والوسمة وأراد به اللحية وشعر الرأس والخضاب في غير حال الحرب لا بأس به في الأصح كذا في الوجيز للكردري اھ (5/ 359)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: ولا بأس بخضاب الرأس واللحية بالحناء والوشمة للرجال والنساء لأن ذلك سبب لزيادة الرغبة والمحبة بين الزوجين اھ(8/ 208)