گناہ و ناجائز

کیاپراویڈنٹ فنڈ کا نافع حلال ہے ؟

فتوی نمبر :
18488
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کیاپراویڈنٹ فنڈ کا نافع حلال ہے ؟

میرا سوال یہ ہے کہ میری کمپنی تمام ملازمین کو پراویڈنٹ فنڈ کی سہولت دیتی ہے، جس میں ملازم اور آجر کا حصہ برابر ہوتا ہے۔ کیا جو منافع اس ضمن میں ہو رہا ہے وہ ملازمین کے لئے حلال ہے یا حرام ؟ یہ رقم ملازمت کے ختم ہونے پر ملتی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پراویڈنٹ فنڈ کی دو قسمیں ہیں (1) جبری (۲) اختیاری ،
جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے پھر مجموعہ پر جو رقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے ، شرعا ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں در حقیقت تنخواہ ہی کا حصہ ہیں اگرچہ سود یا کسی اور نام سے دی جائیں لہذا ملازم کے لیے ان کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے، جبکہ پراویڈنٹ فنڈ کی دوسری قسم اختیاری ہے جس کو ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے کٹواتا ہے اس پر جو رقم محکمہ بنام سود دیگا اس کالینےاور اس کو استعمال میں لانے سے اجتناب چاہیے ،اس دوسری قسم میں چونکہ تشبہ بالربا کے ساتھ سودخوری کا ذریعہ بنالینے کا خطرہ بھی ہے، اس لئے اس رقم کو وصول ہی نہ کیا جائے یا وصول کر کے بغیر نیت ثواب کی مستحق زکوۃ کو صدقہ کر دیا جائے بہر حال سائل کی کمپنی کا اپنے ملازمین سے جو بھی طریقہ ہو اس کو دیکھ کر اس کے مطابق مندرجہ بالا صورتوں میں سے جو صورت ہو اس کے مطابق سائل عمل کرے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الفتاوى الهندية: ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها كذا في شرح الطحاوي وكما يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة اھ (4/ 413)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك اھ (7/ 300) والله أعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالواحداسلم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 18488کی تصدیق کریں
0     591
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات