گناہ و ناجائز

کسی دوسرے انسان کے بال لگانا کیسا ہے اور ان بالوں پر غسل اور طہارت کا کیا حکم ہوگا؟

فتوی نمبر :
18600
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کسی دوسرے انسان کے بال لگانا کیسا ہے اور ان بالوں پر غسل اور طہارت کا کیا حکم ہوگا؟

کیا میں اس حالت میں نماز پڑھ سکتا ہوں، جبکہ میں نے انسانی بالوں سے بنی ہوئی وگ پہن رکھی ہو ؟ (۲) کیا میں اس حالت میں نماز پڑھ سکتا ہوں جبکہ میں نے مصنوعی بالوں کی وگ پہن رکھی ہو ؟ (۳) کیا بالوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا جائز ہے، جبکہ بال نئی تکنیک کے ذریعہ ایک جگہ سے دوسری جگہ بغیر کسی آپریشن کے منتقل کئے جا رہے ہوں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر کسی شخص کے اپنے بال اکھاڑ کر ، اور انہیں قابل کاشت بنا کر دوبارہ لگا دیا جائے، تو اگرچہ اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے، مگر کسی دوسرے انسان کے بال لگوانا ان کی عظمت و احترام کی بناء پر ناجائز اور حرام ہیں، اس لیے ان دونوں قسموں کے بال لگوانے سے احتراز لازم ہے،البتہ ان دونوں کے علاوہ کسی دوسرے حلال جانور کے بال لگوا لئے جائیں، تو اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔
غسل اور طہارت میں یہ تفصیل ہے، کہ اگر وہ بال جسم کے ساتھ مستقل پیوست ہو جائیں ، اور وہ بآسانی جسم سے الگ نہ ہو سکتے ہوں، تو وضوء کے دوران ان پر مسح کرنا جائز ہے۔ اسی طرح غسل میں بھی ان پر پانی بہانا کافی ہے اور اگر یہ ہے جسم کے ساتھ مستقل پیوست نہ ہوں ، بلکہ عارضی طور پر ہوں کہ جب چاہیں لگالیں اور جب چاہیں ہٹا دیں، تو اس صورت میں ان پر مسح کرنا جائز نہیں، بلکہ مصنوعی بالوں کو ہٹا کر اصل کھال پر مسح کرنا ضروری ہوگا، اور ان بالوں کے ہوتے ہوئے اگر اصل جسم تک پانی نہ پہنچے تو ایسی صورت میں فرض غسل بھی نہیں ہوگا، بلکہ ان کو ہٹا کر غسل کرنا ضروری ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی


واللہ تعالی اعلم بالصواب
اکرام اللہ عنایت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 18600کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات