کیا ڈاک کے ذریعے لائف انشورنس جائز ہے یا ناجائز؟
مروجہ انشورنس پالیسیاں خواہ زندگی کی ہوں، املاک کی ہوں یا ذمہ داریوں کی سود ،قمار اور ناجائز شرائط پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہیں، لہٰذا ڈاک کے ذریعے مذکور لائف انشورنس میں حصہ دار بننے سے احتراز لاز م ہے۔
كما قال الله تعال : ﴿يٰا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوه لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ، إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَ عَنِ الصَّلاةِ فَهَلْ أَنتُمْ مُنْتَهُونَ (المائدة 90/91)۔
وفی المبسوط: وحجتنا فی ذلك أن الحکم للغالب وإذا کان الغالب ھو الحرام کان الکل فی وجوب عنھا فی حالة الإختیار اھ (۵/ ۱۹۷) واللہ أعلم بالصواب!
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0