السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ: کیا مجبوراً میں اپنے گردے فروخت کرسکتا ہوں؟ شرعاً کیا حکم ہے۔
انسان اپنے جسم اور اعضاء کا خود مالک نہیں ، بلکہ یہ اس کے پاس خدائی امانت ہے اس لئے آدمی کا اپنے جسم کے اعضاء کو فروخت کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اس لئے سائل کو چاہیے کہ مجبوری کی بناء پر اپنے گردوں کو فروخت نہ کرے بلکہ اپنی ضرورت کسی دوسرے طریقے سے پورا کرنے کی کوشش کرے۔
کما فی ردالمحتار: تحت (قوله وإن ضمنه) لأن الإباحة للاضطرار لا تنافي الضمان. وفي البزازية: خاف الموت جوعا (الی قولہ) وإن قال له آخر اقطع يدي وكلها لا يحل، الخ (6/338)۔