گناہ و ناجائز

مجبوری کی وجہ سے گردےفروخت کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
21328
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مجبوری کی وجہ سے گردےفروخت کرنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ: کیا مجبوراً میں اپنے گردے فروخت کرسکتا ہوں؟ شرعاً کیا حکم ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

انسان اپنے جسم اور اعضاء کا خود مالک نہیں ، بلکہ یہ اس کے پاس خدائی امانت ہے اس لئے آدمی کا اپنے جسم کے اعضاء کو فروخت کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اس لئے سائل کو چاہیے کہ مجبوری کی بناء پر اپنے گردوں کو فروخت نہ کرے بلکہ اپنی ضرورت کسی دوسرے طریقے سے پورا کرنے کی کوشش کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی ردالمحتار: تحت (قوله وإن ضمنه) لأن الإباحة للاضطرار لا تنافي الضمان. وفي البزازية: خاف الموت جوعا (الی قولہ) وإن قال له آخر اقطع يدي وكلها لا يحل، الخ (6/338)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 21328کی تصدیق کریں
0     395
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات