گناہ و ناجائز

فلاحی ادارے کے پراویڈنٹ فنڈ پر ملنے والی اضافی رقم وصول کرنے کاحکم

فتوی نمبر :
21982
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

فلاحی ادارے کے پراویڈنٹ فنڈ پر ملنے والی اضافی رقم وصول کرنے کاحکم

میں ایک گورنمنٹ ملازم ہوں اور میرا ادارہ ایک فلاحی ادارہ ہے۔ ہمارے ادارے میں G.P فنڈ دیگر اداروں کی طرح ہر مہینے تنخوا سے کاٹا جاتا ہے اور سال مکمل ہونے پر دیگر اداروں کی طرح اس پر سود لگا دیا جاتا ہے ۔ GP فنڈ نہ کٹے اس کا ہمارے پاس کوئی اختیار نہیں ہے، مگر ہم اس پر لگانے والے سود کو ایک درخواست دیکرکم کروا سکتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ GP فنڈ پر سال مکمل ہونے پر لگانے والا سود ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں ذکر کردہ صورت جبری پراویڈنٹ فنڈ کے زمرے میں آتی ہے ،اور جبری فنڈ میں سالانہ اضافہ جو بنام سود جمع کیا جاتا ہے شرعا ملازم کے حق میں سود نہیں، بلکہ یہ بھی تنخواہ ہی کا ایک حصہ ہے، جس کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا ہر دو امور جائز اور درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك اھ (7/ 300) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عطاء الرحمن حنیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 21982کی تصدیق کریں
0     21
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات